امنِ عامہ کی صورتحال: پنجاب میں دفعہ 144 کے نفاذ کی مدت میں 7 دن کی توسیع
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
لاہور: پنجاب میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کو برقرار رکھنے کی غرض سے انتظامیہ نے دفعہ 144 کے تحت عائد پابندیوں کی مدت میں ایک ہفتے کی توسیع کر دی ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پابندیوں کی مدت میں اب 15 نومبر تک اضافہ کر دیا گیا ہے، تاکہ صوبے بھر میں کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعے یا انتشار کو پیشگی روکا جا سکے۔
حکمنامے کے تحت پنجاب میں ہر طرح کے احتجاجی مظاہروں، سیاسی اجتماعات، ریلیوں، دھرنوں اور جلوسوں پر عائد ممانعت سختی کے ساتھ برقرار رہے گی۔ یہ پابندی ان تمام سرگرمیوں کا احاطہ کرتی ہے جو بڑے عوامی اجتماعات کا سبب بن سکتی ہیں اور جس سے امن عامہ کو خطرہ لاحق ہونے کا اندیشہ ہو۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ دفعہ 144 کے تحت کئی دیگر پابندیاں بھی شامل ہیں جن پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔ ان میں چار یا چار سے زائد افراد کے عوامی مقامات پر ایک ساتھ جمع ہونے پر مکمل پابندی شامل ہے۔
اس کے علاوہ اسلحہ کی نمائش کو بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے، تاکہ کسی بھی قسم کے تشدد یا خوف و ہراس پھیلانے والے اقدامات کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ نیز لاؤڈ اسپیکر کے غیر ضروری اور عمومی استعمال پر بھی مکمل ممانعت عائد کی گئی ہے۔ حکومتی احکامات کی رو سے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال صرف اذان دینے اور جمعہ کا خطبہ دینے کے لیے کیا جا سکے گا۔
پابندی کا ایک اور اہم پہلو اشتعال انگیز، نفرت آمیز یا فرقہ وارانہ مواد کی اشاعت، تشہیر اور تقسیم پر عائد ممانعت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :