بابا گرو نانک کے جنم دن کی تقریبات کے دوران لاپتا بھارتی سکھ یاتری سے متعلق بڑا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
پاکستان میں بابا گرو نانک کے جنم دن کی تقریبات کے دوران گمشدہ سمجھی جانے والی بھارتی سکھ یاتری سربجیت کور کے بارے میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کرکے ایک پاکستانی شہری سے شادی کرلی ہے۔
دستیاب نکاح نامے کے مطابق 48 سالہ سربجیت کور نے 5 نومبر کو اپنا اسلامی نام نور رکھا اور ضلع شیخوپورہ کے قصبہ فاروق آباد کے رہائشی 42 سالہ ناصر حسین سے نکاح کیا، جس میں حق مہر دس ہزار روپے درج ہے جو ادا کیا جا چکا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا تھا جب بھارتی یاتریوں کا 1923 افراد پر مشتمل جتھہ دس روزہ یاترا مکمل کرنے کے بعد واہگہ کے راستے واپس روانہ ہوا تو تعداد ایک کم نکلی۔
سیکیورٹی اداروں نے جب تصدیق کی تو معلوم ہوا کہ بھارتی پنجاب کے ضلع مکتسر صاحب کی رہائشی سربجیت کور واپس جانے والوں میں شامل نہیں تھیں۔ اسی پس منظر میں انہیں مبینہ طور پر لاپتہ سمجھ کر تلاش شروع کی گئی۔
متروکہ وقف املاک بورڈ کے ایک سینیئر افسر کے مطابق سربجیت کور گزشتہ دو برس سے پاکستان کا ویزا حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھیں اور اس بار انہیں سکھ یاتریوں کے گروپ میں شامل ہو کر ویزا ملا۔ ان کے مطابق بھارت میں سکھ نمائندہ تنظیمیں اس بات کی پابند ہوتی ہیں کہ کسی اکیلی خاتون کو یاتری جتھے میں شامل نہ کیا جائے، تاہم اس معاملے میں باضابطہ منظوری دی گئی تھی۔
4 نومبر کو واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان میں داخلے کے بعد سکھ یاتریوں کو خصوصی شناختی کارڈ جاری کیے گئے تھے، جبکہ یاترا کے دوران وہ ننکانہ صاحب، حسن ابدال اور لاہور سمیت مختلف شہروں میں خریداری اور سیاحت کے لیے آزادانہ باہر بھی نکلتے رہے۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق سربجیت کور انہی سرگرمیوں کے دوران خود کو گروپ سے الگ کر گئیں، تاہم بعد ازاں یہ بات سامنے آئی کہ انہوں نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرکے نکاح کیا ہے۔
نکاح نامے میں انہوں نے خود کو مطلقہ اور دو بچوں کی ماں ظاہر کیا ہے۔ تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ بھارتی خاتون نے کس کے ہاتھوں اسلام قبول کیا اور کب سے ناصر حسین سے رابطے میں تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سربجیت کور کے دوران کے مطابق
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔