دبئی ایئرشو میں بھارتی اہلکاروں کی جے ایف 17 کے ساتھ تصاویر، پاکستانی پائلٹس کی چائے کی پیش کش
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
دبئی میں جاری ایئرشو کے دوران پاکستانی پویلین کے چرچے ہیں جہاں دنیا بھر کے لوگ اور فوجی آکر یہاں موجود دفاعی ساز و سامان دیکھ رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق دبئی میں پاک فضائیہ کا دستہ اپنے سربراہ کی قیادت میں جاری ایئرشو میں موجود ہے جہاں پاکستانی ساختہ جے ایف 17 تھنڈر کے چرچے ہورہے ہیں۔
رواں سال مئی میں بھارت کو دھول چٹانے اور رافیل جیسے جدید طیاروں کو گرانے میں پاکستان کی مدد کرنے والے طیارے کو دیکھنے کیلیے دنیا بھر کے دفاعی و عسکری مبصرین نے پاکستان پویلین کا دورہ کیا۔
Indian Navy personnel taking a lot of pictures of the Pakistan Air Force's JF-17 Thunder at its static display at the Dubai Air Show 2025: pic.
حیران کن بات یہ ہے کہ بھارتی فضائیہ کے اہلکار بھی جے ایف 17 تھنڈر کے فین نکلے اور انہوں نے اس شاندار شاہکار کو دیکھنے کیلیے پاکستان پویلین کا دورہ کیا۔
بھارتی افسران و اہلکاروں کے پہنچنے پر پاکستانی پائلٹس نے انہیں چائے کی پیش کش کی، اس دوران دونوں ممالک کے فضائی اہلکاروں کی غیر رسمی گفتگو بھی ہوئی۔
بھارتی فضائیہ کے اہلکاروں نے بالخصوص جے ایف 17 تھنڈر اور دیگر پاکستان کی فضائی دفاعی تنصیبات کے ساتھ تصاویر بنوائیں جو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہیں۔
ایک عینی شاہد نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ پاکستانی اہلکاروں نے بھارتی پائلٹس سے ملاقات کے بعد انہیں چائے کی پیش کش کی تاہم انہوں نے انکار کیا اور پانی پر اکتفا کیا۔
پاکستانی حکام نے مؤقف اپنایا کہ اگر کوئی بھی مہمان ہمارے پاس آئے تو اُس کا خیر مقدم اور استقبال کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جے ایف 17
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔