Jasarat News:
2026-06-03@01:20:35 GMT

ظہیر بابر اور پنج لیلیٰ

اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نئی دہلی ابھی تک مئی 2025 کے واقعات کے زخم نہیں بھلا سکا۔ بھارت کے فضائی سربراہ ائرچیف امر پریت سنگھ جنہیں ان کے ناقدین ’’نیرو کی بانسری بجانے والا‘‘ قرار دیتے ہیں آج بھی مبینہ طور پر ڈراؤنے خوابوں میں ’’آٹھ (8) آٹھ‘‘ پکار کر چونک جاتے ہیں۔ یہ وہی دور ہے جب سابق امریکی صدر ٹرمپ ’’سات‘‘ کے عدد کو ایک ہزار ایک سے زائد بار کھلے عام کنفرم کر چکے ہیں۔

اسی دوران فرانس کے نیول بیس کے ایک سینئر کمانڈر جو تین دہائیوں سے رافیل طیارے اُڑا رہے ہیں، نے ایک بین الاقوامی کانفرنس میں، جہاں بھارتی وفد بھی موجود تھا، رافیل کے گرنے کی تصدیق کرتے ہوئے پاک فضائیہ کے شاہینوں کی مہارت کو کھلے دل سے سراہا۔ ادھر وزیراعظم مودی کی صحت کے بارے میں ان کے ذاتی معالج کے قریبی حلقوں میں یہ سرگوشیاں سنی جا رہیں ہیں کہ 10 مئی 2025 کے بعد سے موصوف کو بار بار بیت الخلا جانے کی حاجت محسوس ہوتی ہے، جس سے بین الاقوامی تقریبات میں انہیں خاصی سبکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم بھارتی سیاسی منظرنامے میں ان کی حکومت ویسے بھی اپنی ’’آخری سانسیں گننے‘‘ کے مرحلے میں ہے۔

عالمی تبدیلیوں کے دور میں بھارت کے دانشور بھی اپنی سمت بدلنے کو بے قرار دکھائی دیتے ہیں۔ صدیوں پرانی سنسکرت کی پنج تنتر اور عرب دنیا کی الف لیلیٰ جیسی کلاسیکی کہانیوں کو ’’فرسودہ‘‘ قرار دیتے ہوئے بھارت میں ایک نئی فکری مہم اور بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے، جس کا عارضی عنوان ہے: A Journey to Story Revolution

غیر مصدقہ رپورٹس کے مطابق اس نئے بیانیے کا ایک مسودہ پاکستان سے محبت رکھنے والے کچھ بھارتی احباب نے اپنے دوستوں کو فراہم کیا، جس میں اس آنے والے دور کا جو خاکہ پیش کیا گیا ہے، وہ حیران کن ہے۔ جنوری 2026 سے بھارت اپنی نئی تعلیمی نصاب میں کلاسیکی ادب کے ایک نئے سلسلے کا آغاز کرنے جا رہا ہے ایسا سلسلہ جس کے بعد رامائن، مہا بھارت، پنج تنتر اور حتیٰ کہ الف لیلیٰ تک کو Null & Void قرار دیا جائے گا۔

نئے نصاب کا ہر قصہ فجر کے وقت سے شروع ہوگا، کیونکہ بھارت نے فجر اور ’’ظہیر بابر‘‘ کو علامتی طور پر Lock کر لیا ہے۔ اسی مناسبت سے اس نئی کلاسیکی انسائیکلوپیڈیا کا مجوزہ نام رکھا گیا ہے: ’’ظہیر بابر اور پنج لیلیٰ‘‘

لفظ پنج، سنسکرت کے ’’پنج تنتر‘‘ سے اور لیلیٰ، عربی ’’الف لیلیٰ‘‘ سے لیا گیا ہے جبکہ ظہیر بابر کو اس نئے دور کا ’’ہیرکیولیس‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

کتاب کا تعارفی حصہ
پہلا صفحہ
بندے ماترم۔۔۔
دوسرا صفحہ
ظہیر بابر کا تعارف:

1530 میں ظہیرالدین بابر (بانیِ سلطنت ِ مغلیہ) کی پیدائش کے ٹھیک 435 سال بعد، اپریل 1965 میں اسلامی ماہِ ذوالحج کے دوران، پنجاب پاکستان میں سدھو جٹ خاندان میں حکیم غلام محمد کے ہاں ظہیر بابر سدھو کی پیدائش ہوئی۔ بعدازاں یہی بچہ آگے چل کر پاکستان کے ’’اُڑنے والے پرندوں‘‘ یعنی پاک فضائیہ کا نگہبان بنا۔

تیسرا صفحہ

تو آئو بچو ، کہانی شروع کرتے ہیں۔

’’رات کا وقت تھا۔ چاندنی کھڑکی سے اندر جھانک رہی تھی۔ کمروں میں چھوٹے قدموں کی سرسراہٹ گونج رہی تھی۔ بچے اپنے کمبلوں میں لپٹے کبھی روتے، کبھی چپ ہوتے۔ ایسے میں ماں کی آواز آتی: ’بیٹا سوجا، ورنہ ظہیر بابر آجائے گا!‘

یہ سنتے ہی بچے فوراً چپ ہوجاتے، کیونکہ ظہیر بابر صرف فضائیہ کا نام نہیں تھا… بلکہ بچپن میں سنایا جانے والا سب سے بڑا ’’ڈر‘‘ اور طاقت کی علامت بن چکا تھا۔
صبح بچے فخر سے کہتے: ’’ہم تو جلدی اٹھ گئے تھے… کہیں ظہیر بابر دیکھ نہ لیتے!‘‘
چوتھا صفحہ
……
اس طرح یہ کتاب چھپنے کے لیے تیار ہے۔

یوں ’’ظہیر بابر اور پنج لیلیٰ‘‘ کا یہ سلسلہ بھارت کی نئی تعلیمی اصلاحات کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ اس منصوبے پر بھارتی دانشور، ادیب، فلمساز اور مختلف مکاتب ِ فکر کے پنڈت کام کر رہے ہیں۔ تمام رائے اور سفارشات کو حتمی شکل دے کر جنوری 2026 میں اسے باقاعدہ طور پر نصاب اور کلاسیکی کہانیوں میں شامل کیا جائے گا۔نوٹ: یہ کالم آپ کی حس مزاح کو پروان چڑھانے کے لیے لکھا گیا ہے۔

سیف اللہ امیر محمد خان کلوڑ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ظہیر بابر ا جا رہا ہے گیا ہے

پڑھیں:

افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی

افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔

مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور

بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔

یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔

کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا