سندھ میں امتحانی نتائج میں غلطیوں کو کم کرنے کیلئے ای مارکنگ سسٹم کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)سندھ حکومت نے امتحانی نتائج کی غلطیوں کو کم کرنے کے لیے ای مارکنگ سسٹم متعارف کروا دیا۔صوبائی وزیر یونیورسٹیز اینڈ بورڈز اسماعیل راہو نے انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن (IBCC) اور سندھ بورڈز کمیٹی آف چیئرمین (SBCC) کے اشتراک سے منعقدہ 183ویں 2 روزہ اجلاس کے دوران ای مارکنگ سسٹم کا افتتاح کیا۔ اسماعیل راہو نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سندھ کے تعلیمی بورڈز میں ایسا امتحانی نظام قائم کرنا چاہتے ہیں جو نا صرف جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو بلکہ شفاف، قابل اعتماد اور مکمل ڈیجیٹل بھی ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام بورڈز میں ای مارکنگ سسٹم اور ڈیجیٹائزیشن کو فروغ دینا صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس کا مقصد جدید آلات کی فراہمی اور ہر بچے کے لیے معیاری تعلیم تک رسائی کو یقینی بنانا ہے۔ اسماعیل راہو نے بتایا کہ سندھ کے تعلیمی بورڈز میں ای مارکنگ سسٹم پہلے ہی کامیابی کے ساتھ نافذ کی جا چکا ہے اور اب حکام نے اگلے سال تک اس سسٹم کو صوبے کے دوسرے بورڈز تک پھیلانے کا منصوبہ بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم امتحانی نتائج کو شفاف بنانے، پیپر لیک ہونے جیسے مسائل پر قابو پانے اور نقل کو ختم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں، امتحانی نظام کو بہتر بنانا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے اور یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ تمام بورڈز اس سلسلے میں متحد ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔