1971 کی پاک بھارت جنگ، مظلوم بہاری کمیونٹی پر بھارتی درندگی کا خونی باب
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
1971 کی پاک بھارت جنگ تاریخ کا وہ سیاہ ترین باب جس نے خطہ کو لہو میں نہلا دیا۔ خطہ میں دہشت گردی کے فروغ اور تنظیموں کی سرپرستی میں بھارتی کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، 1971 میں بھارت نے دہشت گرد گروہ مکتی باہنی کو محبِ وطن پاکستانیوں کیخلاف بطور دہشتگرد ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ بھارتی ایما پر سفاک مکتی باہنی نے نہتے پاکستانیوں، بالخصوص بہاری کمیونٹی پر بدترین اور انسانیت سوز مظالم ڈھائے، بہاری کمیونٹی کے امیر حسن، بھارتی حمایت یافتہ مکتی باہنی کے مظالم کے عینی شاہد ہیں۔ 1971 میں کم عمر ہونے کے باوجود بھارتی ظلم کی ہولناک داستان آج بھی امیر حسن کے ذہن پہ نقش ہے، بہاری کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے امیر حسن کے والد اور بہنوئی چٹاگانگ محاذ پر بھارتی جارحیت کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ امیر حسن کا کہنا تھا کہ غاصب بھارتی فوج اور مکتی باہنی نے مل کر علاقوں پر حملے کر کے مقامی آبادی کو یرغمال بنایا، انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ یرغمال مردوں کو باندھ کر قتل کیا گیا، خواتین اور بچوں کو بے دردی سے کنوؤں میں پھینکا گیا۔ امیر حسن کی والدہ اس وحشیانہ حملے میں گولی لگنے سے شہید ہو گئیں، امیر حسن خود زخمی ہوئے مگر بھارتی درندگی کے باوجود زندگی بچانے میں کامیاب ہوگئے، امیر حسن کے مطابق نوجوان بہاری پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر بھارتی فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہے۔ امیر حسن نے خبردار کیا کہ درندہ صفت مودی سرکار آج بھی اپنے میڈیا کے ذریعے پاک فوج کو بدنام کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہے، امیر حسن کے مطابق 1971ء کے جرائم کی اصل ذمہ دار بھارتی فوج ہی تھی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بہاری کمیونٹی آج بھی پاک فوج کے ساتھ ہے اور آخری دم تک وفادار رہے گی، 1971ء کی جنگ میں بھارتی ریاستی دہشت گردی اور مکتی باہنی کے جرائم تاریخ کے سینے پر نقش ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بہاری کمیونٹی امیر حسن کے مکتی باہنی
پڑھیں:
آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا
پروپیگنڈا اور گمراہ کن دعوؤں کے برعکس بھارتی نوجوان نے شکست خوردہ مودی حکومت کو آئینہ دکھا دیا۔
دہلی میں بھارتی مظاہرین نے آپریشن سندور میں شکست اورناکامی کو چھپانے کیلئےفوجیوں کی ہلاکت کو دبانے کے پاکستانی مؤقف کی تائید کر دی۔ دہلی میں مظاہرین نے تشدد کرنےوالے پولیس اہلکاروں کو مخاطب کر کے کہاکہ حکومت نے آپریشن سندور میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت اور ان کی قربانیوں کو عوام سے چھپایا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ جو حکومت اپنے فوجیوں کی قربانیوں کو نظر انداز کرے، وہ کسی بھی اہلکار کے ساتھ ایسا کر سکتی ہے ، حکومت کو پولیس اور فوجی جوانوں کی زندگیوں اور قربانیوں کی کوئی پروا نہیں ہے۔
آپریشن سندور میں ہلاک ہونے والے فوجی جوانوں کے نام اور قربانیوں کو حکومتی سطح پر نظر انداز کیا گیا، تم حکومت کا ساتھ دیتے ہو،لیکن یہی حکومت تمہاری موت کے بعد تمہاری شناخت تک چھپا دیتی ہے۔
بھارتی عوام کا مودی کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ان کے پوسٹر پھاڑ رہے ہیں اور ان کی تصویر پر چپلیں برسا رہے ہیں۔