پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے برطانیہ کے بعد امریکا میں پی ایس ایل روڈ شو کا انعقاد کیا، جس میں کرکٹ لیجنڈز نے شرکت کی۔

چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے اعلان کیاکہ پاکستان سپر لیگ میں شامل کی جانے والی دو نئی ٹیموں کی بڈنگ 22 دسمبر کو ہوگی، جبکہ پی ایس ایل کا گیارھواں ایڈیشن 26 مارچ سے شروع کیا جائے گا، اور ایونٹ کا فائنل 3 مئی کو کھیلا جائےگا۔

مزید پڑھیں: پی ایس ایل 11 کا آغاز کب سے ہوگا؟ محسن نقوی نے شائقین کرکٹ کو خوشخبری سنا دی

نیو یارک میں پی ایس ایل کے روڈ شو سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ لیگ کو مزید بہتر بنانے کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں اور پاکستان کرکٹ کا مستقبل انتہائی روشن دکھائی دیتا ہے۔ ان کے مطابق پی ایس ایل کو دنیا کی نمبر ون لیگ بنانا بورڈ کا ہدف ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ نئی ٹیموں کی بڈنگ کا تمام عمل مکمل شفاف ہوگا اور اسے براہ راست نشر بھی کیا جائے گا۔

اس سے قبل انگلینڈ میں کامیاب روڈ شو کے بعد امریکا میں بھی پی ایس ایل کا تعارفی پروگرام منعقد کیا گیا، جہاں نیو یارک کی تقریب میں قومی ترانہ بھی پیش کیا گیا۔

اس روڈ شو میں قومی مینز ٹیم کے 6 کھلاڑی شریک ہوئے جن میں سلمان علی آغا، ابرار احمد، فہیم اشرف، صائم ایوب، شان مسعود اور سعود شکیل شامل تھے۔

تقریب کے دوران چیئرمین پی سی بی اور سابق کرکٹ لیجنڈز کے درمیان پینل ڈسکشن ہوئی۔

اس موقع پر رضوان سعید شیخ نے کہاکہ پاکستان سپر لیگ تیزی سے عالمی سطح پر ایک مضبوط برانڈ کے طور پر ابھر رہی ہے اور ملک میں کرکٹ کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، جبکہ کھیل ثقافتوں کو قریب لانے کا مؤثر ذریعہ بھی ہے۔

پی ایس ایل کے سی ای او سلمان نصیر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ کا ذکر آتے ہی شائقین کا جوش و جذبہ بڑھ جاتا ہے اور کھیل مختلف قوموں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مدد دے رہا ہے۔ ان کے مطابق پی ایس ایل اب پاکستان کرکٹ کی پہچان بن چکی ہے۔

سابق کپتان وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل کی کامیابی میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی محنت شامل ہے، لیگ کے ذریعے مقامی ٹیلنٹ کو نمایاں مواقع مل رہے ہیں اور شائقین کرکٹ کو معیاری تفریح فراہم کی جا رہی ہے۔

بعد ازاں وسیم اکرم کے ساتھ سلمان علی آغا، شان مسعود اور سعود شکیل نے پینل گفتگو میں شرکت کی۔

شان مسعود نے کہا کہ ماضی میں وہ پی ایس ایل میں کسی ٹیم کا حصہ نہیں تھے اور صرف بطور شائق لیگ دیکھتے تھے، تاہم پی ایس ایل نے ان کی کارکردگی میں نمایاں بہتری پیدا کی۔

سلمان علی آغا نے کہاکہ پی ایس ایل میں کھیلنے سے دباؤ میں کھیلنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے، جبکہ سعود شکیل کے مطابق پی ایس ایل سے قبل وہ ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ کھیل چکے تھے اور اب تک لیگ کا تجربہ نہایت شاندار رہا ہے، جہاں غیر ملکی کوچز کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملتا ہے۔

مزید پڑھیں: 2 نئی پی ایس ایل ٹیموں کے لیے بولی جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع

سابق چیئرمین پی سی بی رمیز راجا نے کہاکہ پی ایس ایل پاکستان کرکٹ کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے اور نوجوان کھلاڑیوں کو عالمی کرکٹرز کے ساتھ کھیلنے کا قیمتی موقع فراہم کر رہی ہے۔

آخر میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا کہنا تھا کہ قومی کرکٹرز میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور پی سی بی اور پی ایس ایل کی انتظامیہ مل کر پاکستان کرکٹ کی بہتری کے لیے کام کر رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews پاکستان سپر لیگ پی ایس ایل روڈ شو قومی کرکٹرز کرکٹ لیجنڈز محسن نقوی وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان سپر لیگ پی ایس ایل روڈ شو قومی کرکٹرز کرکٹ لیجنڈز محسن نقوی وی نیوز پاکستان کرکٹ کہ پی ایس ایل محسن نقوی کر رہی ہے پی سی بی کے لیے ہے اور روڈ شو

پڑھیں:

ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟

ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔

اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔

لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟

مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔

مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

تازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔

پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیں

گزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے  تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات

پاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یورپی یونین کی غیر معمولی تائید

یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔

اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ  طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکز

موجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔

امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین

متعلقہ مضامین

  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار