ڈاکٹر وردہ قتل کیس، مرکزی ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
پشاور(نیوزڈیسک)ڈاکٹر وردہ قتل کیس کا مرکزی ملزم فرار تھا جبکہ کیس میں نامزد دیگر ملزمان پہلے ہی گرفتار کیے جا چکے ہیں، آئی جی کے پی
پشاور:
خیبرپختونخوا کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس نے کہا ہے کہ ایبٹ آباد میں قتل ہونے والے ڈاکٹر وردہ کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور پولیس مقابلے میں قاتل ہلاک ہوگیا ہے۔
آئی جی خیبرپختونخوا نے کہا کہ ڈاکٹر وردہ قتل کیس کا مرکزی ملزم شمریز پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر وردہ قتل کیس کا مرکزی ملزم فرار تھا تاہم اس اہم کیس میں ٹیم نے دن رات کام کیا جبکہ کیس میں نامزد دیگر ملزمان پہلے ہی گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
خیال رہے کہ ڈی ایچ کیو اسپتال ایبٹ آباد کی ڈاکٹر وردہ مشتاق کو گزشتہ ہفتے اغوا کے بعد قتل کیا گیا تھا۔
ڈی پی او ایبٹ آباد ہارون الرشید نے کیس کے حوالے سے پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ ڈاکٹر وردہ نے اپنی سہیلی ردا کے پاس دو سال قبل 67 تولہ سونا امانت رکھوایا تھا جبکہ اس کی واپسی کے مطالبے پر انہیں اغوا کرکے بے دردی سے قتل کیا گیا۔
انہوں نے بتایا تھا کہ ڈاکٹر وردہ کو اغوا کے روز ہی قتل کیا گیا تھا اور پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مقتولہ کی گردن کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی اور موت گلا دبانے اور سانس بند ہونے کی وجہ سے ہوئی اور جسم پر تشدد کے نشانات واضح تھے۔
بعد ازاں پولیس نے ملزمہ کے خاوند بلے دی ہٹی کے مالک وحید کو بھی ملزم نامزد کرکے گرفتار کرلیا تھا اور گرفتار ملزمان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔