ایف آئی اے کے 18 اہلکاروں کے انسانی اسمگلروں سے رابطوں کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2025 GMT
یونان کشتی کے متاثرہ نوجوانوں کے فیصل آباد ایئرپورٹ سے جانے کے معاملے میں بڑا انکشاف ہوا ہے۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے 18 اہلکاروں کے خلاف انکوائری میں انسانی اسمگلروں سے رابطے سامنے آئے ہیں۔ ایئرپورٹ پر تعینات عملے نے انسانی اسمگلروں سےتعاون کرنے کی عوض پیسوں کی ڈیل کی۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ایف آئی اے عملے نے محمد شہزاد کانسٹیبل کے ذریعےانسانی اسمگلروں سے ڈیل کی۔
انکوائری کے مطابق ایف آئی اے عملے نے انسانی اسمگلروں سے فی مسافر کلیئرنس کے عوض 25 ہزار روپے کی ڈیل کی اور 4 نوجوانوں کو ایئرپورٹ سے گزارنے کے عوض 1 لاکھ روپے وصول کیے گئے۔
تحقیقات کے مطابق الزامات کی زد میں آنے والے اہلکاروں کو مقدمہ درج کرکے گرفتار کیا گیا۔
ایف آئی اے کے گرفتار اہلکاروں کی درخواست پر اسپیشل جج سینٹرل کی عدالت میں مقدمے کی سماعت ہوئی، جس میں اہلکاروں کی ضمانت کی درخواست کو موخر کردیا گیا۔
اسپیشل کورٹ نے مقدمے کے مدعی کو 15 جنوری کو عدالت میں طلب کرلیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔