شیر افضل اور سلمان اکرم میں لفظی گولہ باری، چیئرمین پی ٹی آئی کا کیا موقف ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2025 GMT
شیر افضل اور سلمان اکرم میں لفظی گولہ باری، چیئرمین پی ٹی آئی کا کیا موقف ہے؟ WhatsAppFacebookTwitter 0 10 January, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ کو بانی تحریک انصاف عمران خان کا اعتماد حاصل ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا سلمان اکرم راجہ کو بانی پی ٹی آئی نے ہی سیکرٹری جنرل تعینات کیا ہے، کس کو تعینات کرنا یا کس کو ہٹانا ہے یہ بانی پی ٹی آئی کو ہی طے کرنا ہے، پہلے بھی ایسی تعیناتیاں ہوتی رہی ہیں۔
شیر افضل مروت کی جانب سے سلمان اکرم راجہ پر پارٹی قوانین کی خلاف ورزی کے الزام پر بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا ہماری پارٹی کا آئین ہی بانی پی ٹی آئی ہیں تو یہ پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے۔حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا حکومتی کمیٹی کے ساتھ تیسری میٹنگ کریں گے اور لکھ کر نکات حکومت کے سامنے رکھیں گے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز سلمان اکرم راجہ اور شیر افضل مروت نے ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا شیرافضل مروت روز ایک ایسا بیان دیتے ہیں جس کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، انہیں پارٹی پالیسی کا ادراک نہیں، انہیں ٹی وی چینل والے بلا لیتے ہیں تو انہوں نے کچھ نہ کچھ کہنا ہوتا ہے اور وہ کہہ دیتے ہیں۔
سلمان اکرم راجہ کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے شیر افضل مروت کا کہنا تھا سلمان اکرم راجہ پارٹی آئین کے مطابق سیکرٹری جنرل بن ہی نہیں سکتے، ہم اگر پارٹی آئین کو پامال کریں گے تو پاکستان کے آئین کی بات کس طرح کریں گے۔ شیر افضل مروت کا کہنا تھا سلمان اکرم راجہ ایک سال پہلے پارٹی میں آیا اور اب مجھے سمجھا رہا ہے، پارٹی امور کا سلمان اکرم راجہ کو کیا ادراک ہوگا، وہ 15 دن لاہور میں رہتا ہے، ایک دن اسلام آباد آ جاتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چیئرمین پی ٹی آئی سلمان اکرم شیر افضل
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔