ججز سمیت تمام اعلیٰ عہدیداروں کیلئے دہری شہریت کی ممانعت ہونی چاہیئے، سعدیہ عباسی
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2025 GMT
اجلاس میں سینیٹر افنان اللّٰہ خان کیجانب سے متعارف کردہ سول سرونٹس ترمیمی بل 2024ء پر غور کیا گیا۔ لیگی رہنماء افنان اللّٰہ خان کیجانب سے بیوروکریٹس کی دہری شہریت کی مخالفت کی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ مسلم لیگ نون کی رہنماء سعدیہ عباسی کا کہنا ہے کہ دہری شہریت کی ممانعت ججز سمیت تمام اعلیٰ عہدیداروں کے لیے ہونی چاہیئے۔ سینیٹ قائمہ کمیٹی کابینہ سیکریٹریٹ کا رانا محمود الحسن کی زیرِ صدارت اجلاس ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر افنان اللّٰہ خان کی جانب سے متعارف کردہ سول سرونٹس ترمیمی بل 2024ء پر غور کیا گیا۔ لیگی رہنماء افنان اللّٰہ خان کی جانب سے بیوروکریٹس کی دہری شہریت کی مخالفت کی گئی۔ سیکریٹری کابینہ کامران علی افضل نے کہا کہ میں اس وقت حکومت کی پالیسی کی نمائندگی نہیں کرسکتا۔
قائمہ کمیٹی کے اراکین نے بل پر وزیرِاعظم آفس کی رائے لینے کی تجویز دی، جس کے بعد کمیٹی نے سیکریٹریز کمیٹی کی رپورٹ کے بعد بل پر ووٹنگ کروانے کا فیصلہ کیا۔ قائمہ کمیٹی نے سول سرونٹس ترمیمی بل 2024ء آئندہ اجلاس تک مؤخر کر دیا۔ سینیٹر انوشہ رحمٰن کی جانب سے پیش کیا گیا متروکہ وقف املاک ترمیمی بل 2024ء بھی آئندہ اجلاس تک مؤخر کر دیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: دہری شہریت کی ہ خان کی
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔