مزاحیہ بھارتی اداکار ٹیکو تلسانیا کی اسپتال میں حالت تشویشناک
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2025 GMT
بھارت کے مشہور سینئر اداکار ٹیکو تلسانیا کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ان کے اہلِ خانہ نے وضاحت کی ہے کہ ٹیکو تلسانیا کو کو دل کا دورہ نہیں پڑا بلکہ برین اسٹروک (دماغ پر فالج کا حملہ) ہوا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق 70 سالہ ٹیکو تلسانیا کو جمعے کو برین اسٹروک ہوا، جس کے بعد سے وہ ممبئی کے اسپتال میں زیرِ علاج ہیں جہاں ان کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔
اداکار کی حالت کے بارے میں پہلے یہ بتایا جا رہا تھا کہ انہیں دل کا دورہ پڑا ہے تاہم ان کی اہلیہ نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ ٹیکو تلسانیا کو برین اسٹروک ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکو تلسانیا نے ایک فلم کی اسکریننگ میں شرکت کی تھی اور رات 8 بجے کے قریب ان کی طبیعت ناساز ہونے لگی تھی۔
واضح رہے کہ ٹیکو تلسانیا بالی ووڈ فلم ’ہم ہیں راہی پیار کے‘، ’انداز اپنا اپنا‘، ’جڑواں‘، ’بڑے میاں چھوٹے میاں‘ اور دیگر کئی فلموں میں مزاحیہ اداکاری کی وجہ سے بہت مشہور ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔