مذاکراتی کمیٹی کی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے آج ملاقات کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2025 GMT
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی کی آج بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کا امکان ہے۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے مذاکراتی کمیٹی کو ملاقات کرائے جانے کا عندیہ دیا گیا ہے، کمیٹی دوپہر کے وقت اڈیالہ جیل پہنچے گی۔فیصل چودھری کا کہنا تھا کہ مذاکراتی کمیٹی تیار ہے جیسے ہی اجازت ملے گی پہنچ جائیں گے۔
دوسری جانب صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ تحریک انصاف و اتحادی جماعتوں کی مذاکراتی کمیٹی کی آج دوپہر ڈھائی بجے بانی پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات ہوگی، تمام اراکین اسلام آباد کے لئے روانہ ہو چکے ہیں۔
اسلام آباد ایئرپورٹ پر سعودی عرب جانیوالی خاتون گرفتار، پیٹ سے کیا نکلا؟ جانیں
واضح رہے کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی مذاکراتی کمیٹی اور سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے درمیان رابطہ قائم ہونے کے بعد عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے امکانات روشن ہوئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: مذاکراتی کمیٹی پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔
Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…
— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔
یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔
مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے