سی آئی اے واٹس ایپ پیغامات پڑھ سکتی ہے ، مارک زکربرگ
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2025 GMT
لاس اینجلس(ویب ڈیسک ) کمپنی کے سی ای او نے کہا ہے کہ انکرپشن میٹا کو چیٹس تک رسائی سے روکتی ہے، لیکن جب کوئی صارف کے فون میں براہ راست لاگ ان ہوتا ہے تو یہ بے اختیار ہوتا ہے۔
میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ نے تسلیم کیا ہے کہ امریکی حکام بشمول سی آئی اے، پلیٹ فارم کے اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کو مؤثر طریقے سے بائی پاس کرتے ہوئے صارفین کے موبائل میں ریموٹلی لاگ ان کرکے واٹس ایپ پیغامات تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔
جمعہ کو جو روگن ایکسپیریئنس پوڈ کاسٹ پر بات کرتے ہوئے، زکربرگ نے وضاحت کی کہ جہاں واٹس ایپ کا انکرپشن میٹا کو پیغامات کے مواد کو دیکھنے سے روکتا ہے، لیکن وہ صارف کے فون تک فزیکل رسائی سے تحفظ نہیں دیتا۔
ان کے تبصرے ٹکر کارلسن کی روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ انٹرویو کے لیے کی جانے والی جدوجہد کے بارے میں روگن کے ایک سوال کے تناظر میں سامنے آئے۔
گزشتہ سال فروری میں، تین سال کی ناکام کوششوں کے بعد بالآخر پوٹن سے بات کرنے میں کامیاب ہونے کے بارے میں بات کرتے ہوئے، کارلسن نے امریکی حکام، یعنی این ایس اے اور سی آئی اے کو اپنی کوششوں کو روکنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
کارلسن کے مطابق، ایجنسیوں نے ان کے پیغامات اور ای میلز کو ٹیپ کرکے اس کی جاسوسی کی، اور اس کے ارادے میڈیا کو لیک کردیئے، جس نے ماسکو کو اس سے بات کرنے سے “خوف زدہ” کردیا۔ روگن نے زکربرگ سے یہ وضاحت کرنے کو کہا کہ انکرپشن کے تحفظات کے پیش نظر جو پیغامات کی حفاظت کے لیے سمجھے جاتے ہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے۔
میٹا سی اے او نے کہا کہ انکرپشن کے باعث کمپنی جو یہ سروس چلا رہی ہے وہ بھی صارفین کے میسج نہیں پڑھ سکتی ، لہٰذا اگر آپ واٹس ایپ استعمال کر رہے ہیں، تو میٹا سرورز بھی اس پیغام کے کانٹینٹ کو نہیں دیکھ سکتے۔
زکربرگ نے کہا اگر کوئی میٹا کے ڈیٹا بیس کو ہیک کر لے، تب بھی وہ صارفین کے نجی میسجز تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔ سگنل میسجنگ ایپ، جسے کارلسن نے استعمال کیا، وہی انکرپشن استعمال کرتی ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ انکرپشن قانون نافذ کرنے والے اداروں کو موبائل فون میں سٹور میسجز کو دیکھنے سے نہیں روکتی ہے۔
میٹا سی ای او نے بتایا کہ “وہ کیا کرتے ہیں وہ آپ کے فون تک رسائی حاصل کرتے ہیں ، اس لیے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کچھ انکرپشن ہے، وہ اسے صاف نظر سے دیکھ سکتے ہیں،۔
زکربرگ نے پیگاسس جیسے ٹولز کا تذکرہ کیا جو کہ اسرائیلی کمپنی این ایس او گروپ کا تیار کردہ سپائی ویئر ہے جو ڈیٹا تک رسائی کے لیے موبائل فون پر خفیہ طور پر انسٹال کیا جا سکتا ہے۔
میٹا سی ای او کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ صارفین کے نجی پیغامات کو براہ راست ان کے موبائل فونز میں گھس کر دیکھاجا سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ میٹا غائب ہونے والے پیغامات کے ساتھ سامنے آیا، جہاں ایک مخصوص مدت کے بعد کسی کے میسج تھریڈ کو مٹا دیا جا سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:لیسکو کا گرین سولر سسٹم میٹرز کے نئے چارجز کا اعلان, مکمل تفصیلات
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کہ انکرپشن صارفین کے تک رسائی سی ای او نے کہا
پڑھیں:
پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔
موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔