Daily Ausaf:
2026-07-24@02:19:06 GMT

سی آئی اے واٹس ایپ پیغامات پڑھ سکتی ہے ، مارک زکربرگ

اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2025 GMT

لاس اینجلس(ویب ڈیسک ) کمپنی کے سی ای او نے کہا ہے کہ انکرپشن میٹا کو چیٹس تک رسائی سے روکتی ہے، لیکن جب کوئی صارف کے فون میں براہ راست لاگ ان ہوتا ہے تو یہ بے اختیار ہوتا ہے۔

میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ نے تسلیم کیا ہے کہ امریکی حکام بشمول سی آئی اے، پلیٹ فارم کے اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کو مؤثر طریقے سے بائی پاس کرتے ہوئے صارفین کے موبائل میں ریموٹلی لاگ ان کرکے واٹس ایپ پیغامات تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔

جمعہ کو جو روگن ایکسپیریئنس پوڈ کاسٹ پر بات کرتے ہوئے، زکربرگ نے وضاحت کی کہ جہاں واٹس ایپ کا انکرپشن میٹا کو پیغامات کے مواد کو دیکھنے سے روکتا ہے، لیکن وہ صارف کے فون تک فزیکل رسائی سے تحفظ نہیں دیتا۔

ان کے تبصرے ٹکر کارلسن کی روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ انٹرویو کے لیے کی جانے والی جدوجہد کے بارے میں روگن کے ایک سوال کے تناظر میں سامنے آئے۔

گزشتہ سال فروری میں، تین سال کی ناکام کوششوں کے بعد بالآخر پوٹن سے بات کرنے میں کامیاب ہونے کے بارے میں بات کرتے ہوئے، کارلسن نے امریکی حکام، یعنی این ایس اے اور سی آئی اے کو اپنی کوششوں کو روکنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

کارلسن کے مطابق، ایجنسیوں نے ان کے پیغامات اور ای میلز کو ٹیپ کرکے اس کی جاسوسی کی، اور اس کے ارادے میڈیا کو لیک کردیئے، جس نے ماسکو کو اس سے بات کرنے سے “خوف زدہ” کردیا۔ روگن نے زکربرگ سے یہ وضاحت کرنے کو کہا کہ انکرپشن کے تحفظات کے پیش نظر جو پیغامات کی حفاظت کے لیے سمجھے جاتے ہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے۔

میٹا سی اے او نے کہا کہ انکرپشن کے باعث کمپنی جو یہ سروس چلا رہی ہے وہ بھی صارفین کے میسج نہیں پڑھ سکتی ، لہٰذا اگر آپ واٹس ایپ استعمال کر رہے ہیں، تو میٹا سرورز بھی اس پیغام کے کانٹینٹ کو نہیں دیکھ سکتے۔

زکربرگ نے کہا اگر کوئی میٹا کے ڈیٹا بیس کو ہیک کر لے، تب بھی وہ صارفین کے نجی میسجز تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔ سگنل میسجنگ ایپ، جسے کارلسن نے استعمال کیا، وہی انکرپشن استعمال کرتی ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ انکرپشن قانون نافذ کرنے والے اداروں کو موبائل فون میں سٹور میسجز کو دیکھنے سے نہیں روکتی ہے۔

میٹا سی ای او نے بتایا کہ “وہ کیا کرتے ہیں وہ آپ کے فون تک رسائی حاصل کرتے ہیں ، اس لیے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کچھ انکرپشن ہے، وہ اسے صاف نظر سے دیکھ سکتے ہیں،۔

زکربرگ نے پیگاسس جیسے ٹولز کا تذکرہ کیا جو کہ اسرائیلی کمپنی این ایس او گروپ کا تیار کردہ سپائی ویئر ہے جو ڈیٹا تک رسائی کے لیے موبائل فون پر خفیہ طور پر انسٹال کیا جا سکتا ہے۔

میٹا سی ای او کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ صارفین کے نجی پیغامات کو براہ راست ان کے موبائل فونز میں گھس کر دیکھاجا سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ میٹا غائب ہونے والے پیغامات کے ساتھ سامنے آیا، جہاں ایک مخصوص مدت کے بعد کسی کے میسج تھریڈ کو مٹا دیا جا سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:لیسکو کا گرین سولر سسٹم میٹرز کے نئے چارجز کا اعلان, مکمل تفصیلات

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کہ انکرپشن صارفین کے تک رسائی سی ای او نے کہا

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف