بنا ڈرائیور کے گڑھوں اور جمپوں پر سے کودنے والی چینی سُپر کار
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2025 GMT
چین کی معروف الیکٹرک کار کمپنی BYD نے اپنی نئی پریمیئم الیکٹرک سُپر کار ”یینگ وینگ 9U“ کی ایک ویڈیو جاری کی ہے، جس میں یہ کار بغیر کسی ڈرائیور کے مختلف رکاوٹوں کو اُچھل کر عبور کرتی دکھائی گئی ہے۔ یہ منفرد گاڑی خاص طور پر اپنی اس حیرت انگیز صلاحیت کی وجہ سے توجہ کا مرکز بنی ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ڈرائیو کے دوران سڑک پر مختلف رکاوٹیں لگائی گئی تھیں جن میں ایک پانی سے بھرا ہوا 2.
یینگ وینگ 9U کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا ہائیڈرولک سسٹم اور ڈیسیس ایکس سسپنشن ہے، جس کی مدد سے یہ گاڑی رکاوٹوں کو اُچھل کر عبور کر سکتی ہے۔
بی وائی ڈی کے مطابق U9 کار 6 میٹر تک ہوا میں رہنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو اسے ایک منفرد سُپر کار بناتی ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک قدم آگے
یینگ وینگ 9U میں ایڈوانس ڈرائیور اسسٹنس سسٹم (ADAS) بھی موجود ہے، حالانکہ اس کی مکمل تفصیلات ابھی تک ظاہر نہیں کی گئی ہیں۔ بی وائی ڈی نے بتایا ہے کہ اس گاڑی کی ترقی میں DJI اور Horizon Robotics جیسی کمپنیوں کی معاونت حاصل ہے، جو اس گاڑی کی خودکار خصوصیات کو مزید بہتر بنانے میں مدد فراہم کر رہی ہیں۔
دنیا بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے میں انقلابی تبدیلی
یہ گاڑی 960 کلو واٹ (1287 ہارس پاور) اور 1680 نیوٹن میٹر ٹارک کے ساتھ چلتی ہے، جو اسے صفر سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار 2.36 سیکنڈ میں حاصل کرنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ 400 میٹر کی ڈریگ ریس صرف 9.78 سیکنڈ میں مکمل کر سکتی ہے، جو اسے دنیا کی تیز ترین الیکٹرک سُپر کاروں میں سے ایک بناتی ہے۔
یہ دوہری چارجنگ کو سپورٹ کرتی ہے، یعنی ایک وقت میں دو چارجنگ گنز استعمال کی جا سکتی ہیں۔ یینگ وینگ 9U کو فروری 2024 میں چین میں 1.68 ملین یوآن (تقریباً 2 لاکھ 30 ہزار ڈالر) میں لانچ کیا گیا تھا، اور اس کی پروڈکشن اگست 2024 سے شروع ہو چکی ہے۔ بی وائی ڈی کی یہ سُپر کار مستقبل کی ٹیکنالوجی کی ایک جھلک پیش کر رہی ہے، جو دنیا بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے میں انقلابی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔
یینگ وینگ 9U نے ایک نئی منزل طے کی ہے، اور یہ یقینی طور پر اگلے چند سالوں میں الیکٹرک سُپر کار کی دنیا میں ایک بڑا نام بننے جا رہی ہے۔
مزیدپڑھیں:سولجر بازار میں آگ بھڑک اٹھی، 50 سے زائد موٹر سائیکلیں خاکستر
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: س پر کار
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ