شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی 2 مختلف کارروائیوں میں 9 دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2025 GMT
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے دوسلی میں خفیہ اطلاعات پر آپریشن کیا، آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔ اسلام ٹائمز۔ شمالی وزیر ستان میں سکیورٹی فورسز کی 2 مختلف کارروائیوں میں 9 خوارج ہلاک ہوگئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے دوسلی میں خفیہ اطلاعات پر آپریشن کیا، آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن میں 6 خوارج مارے گئے اور 2 گرفتار ہوئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے ایشام میں بھی سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر آپریشن کیا، شدید فائرنگ کے تبادلے میں 3 خوارج ہلاک اور 2 خوارج زخمی ہوگئے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہےکہ مارے گئے خوارج کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا، ہلاک خوارج سکیورٹی فورسز پر حملوں اور معصوم شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں موجود دیگر ممکنہ خوارج کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے، سکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شمالی وزیرستان سکیورٹی فورسز آئی ایس پی آر کے مطابق خوارج کے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک