کراچی کے سولجر بازار تھانے کے باہر کھڑی شہریوں کی 40 سے 50 موٹرسائیکلوں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2025 GMT
کراچی : کچرے میں لگنے والی آگ بھڑکی جس نے کچرے میں پڑے موٹرسائیکلوں کے پارٹس کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ـ
کراچی کے سولجر بازار تھانے کے باہر کھڑی شہریوں کی 40 سے 50 موٹرسائیکلوں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق سولجر بازار کے باہر 40 سے 50 موٹرسائیکلوں میں آگ لگ گئی ، فائربریگیڈ کی ایک گاڑی نے آگ پر قابو پالیا۔
سولجر بازار تھانے کے باہر کھڑی شہریوں کی 40 سے 50 موٹرسائیکلوں میں پراسرار طور پر آگ لگ گئی ، اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور فائربریگیڈ کے عملے کو طلب کرلیا، فائر بریگیڈ ایک گاڑی نے موقع پر پہنچ کر ایک گھنٹے کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پالیا۔
ایس ایچ او سولجر بازار وقار عظیم کا کہنا ہے کہ جلنے والی موٹرسائیکلیں کیس پراپرٹی نہیں ہیں بلکہ کچرے میں موٹرسائیکلوں کے پارٹس، چیچز، انجن ، ٹائر ، رقم ، سیٹیں وغیرہ پڑی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کچرے میں لگنے والی آگ بھڑکی جس نے کچرے میں پڑے موٹرسائیکلوں کے پارٹس کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ، آتش زدگی کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: لگنے والی ا گ سولجر بازار کچرے میں کے باہر
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔