پیارے کے 15ویں سالانہ اجلاس عام کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2025 GMT
پیارے کی جنرل باڈی میٹنگ میں شیخ نجم الغنی، شاہد اسلام رشی، پرویز فر ید، سید طاہر حسن، ذوالفقار علی، محمد اعظم چودھری، محبوب انور، افضال الدین، محمد قاسم، قاضی عبدالرحمان، شاہ عالم، شیخ نثار، طارق، میان رفیق، حامد سعید، سعید اللہ، مشتاق باجوہ، چودھری رحمت علی، ملک محمد اسلم، اخوند سرمد، رحیم خان، محمد فصیح اور دیگرکا گروپ فوٹو
پی آئی اے ریٹائرڈ ایمپلائز ایسوسی ایشن (پیارے) رجسٹرڈ کا پندرہواں سالانہ اجلاس عام ہفتہ 11 جنوری 2025ء کو کراچی کے مقامی ہال میں چیئرمین ذوالفقار علی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ کارروائی کا آغاز ٹی وی کے معروف قاری اور نعت خواں سید فاروق حسن نے قرآن حکیم کی تلاوت اور نعت شریف بحضور سرور کونینؐ پڑھ کر کیا۔ نظامت کے فرائض سینئر نائب صدر پرویز فرید عالیجاہ نے نبھائے۔ پیارے کے اراکین، پی آئی اے ریٹائریز اور مہمانانِ گرامی اور صدر پیارے سید طاہر حسن، سیکرٹری جنرل محمد اعظم چودھری، نائب صدر ملک محمد اسلم، آرگنائزنگ سیکرٹری کیپٹن (ر) شیخ نجم الغنی، آئوٹ اسٹیشن سیکرٹری شاہ عالم، لیگل سیکرٹری اخوند سرمد خالق، پبلک ریلیشنز سیکرٹری محبوب عالم، جوائنٹ سیکرٹریز مشتاق باجوہ، چودھری رحمت علی، رحیم خان اور کوآرڈنیشن سیکرٹری پیارے نثار احمد شیخ نے شرکت کی۔ محمد اعظم سیکرٹری جنرل نے گزشتہ اجلاس عام اور گزشتہ سال انتخابات کے انعقاد کی رپورٹ پیش کی۔ اس موقع پر الیکشن کمشنر عالم حبیب اور اراکین محمد یونس اور سعید اللہ خان بھی موجود تھے۔ اجلاس عام نے تمام کارروائی کی منظوری دی۔ سالانہ رپورٹ، کارکردگی اور آئندہ کے پروگرام بھی سیکرٹری جنرل نے پیش کیے۔ پیارے کے سالانہ آڈٹ شدہ حسابات برائے سال 2023-2024 بھی پیش کیے گئے۔ اجلاس نے ان کی منظوری دی۔ 24 صفحات پر مشتمل بشمول حسابات / میزانیہ سالانہ رپوٹ حاضرین میں تقسیم کی گئی۔ اجلاس کے شرکاء نے اسے بہت سراہا۔
پرویز فرید SVP نے اجلاس عام کے انعقاد کے سلسلہ میں مالی معاونت کرنے والے احباب کا شکریہ ادا کیا۔ آرگنائزنگ سیکرٹری شیخ نجم الغنی نے ایک قرار داد پیش کی جس میں مقتدر حلقوں، سیکرٹریز نجکاری کمیشن، ایوی ایشن، فنانس، چیئرمین اور سی ای او پی آئی اے، ہولڈ کو سے مطالبہ کیا گیا کہ پنشنرز کے مسائل جلد حل کیے جائیں جن میں اہم یہ کہ پنشن میں معقولیت لائی جائے جو اس وقت پورے ملک میں سب سے کم ہے اور کمیوٹ شدہ پنشن واپس کی جائے۔ یہ فوری حل طلب مسئلہ ہے۔ اجلاس عام میںPIA کی یورپ پروازوں پر سے پابندی اُٹھنے کے بعد پہلی پرواز کی پیرس روانگی پر خوشی کا اظہار اور اللہ کا شکر ادا کیا گیا اور ساتھ ہی PIA انتظامیہ اور ملازم ساتھیوں کو مبارکباد دی گئی۔ سید طاہر حسن نے اپنے صدارتی خطاب میں حاضرین کو بتایا کہ جہاں پیارے روزمرہ کے مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔
وہاں چند کامیابیاں بہت اہم اور پائیدار ملی ہیں جن میں PIA ریٹائریز کی پنشن اور دیگر مراعات کا تحفظ بذریعہ پارلیمنٹ (PIACL ACT 2016) اور اب نجکاری کی صورت میں SECP (سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان) کو پیارے کے مطالبے پر PIA کی یقین دہانی جس کو SECP نے اپنے 3 مئی 2024ء کے آرڈر میں تحریر کردیا ہے۔ PIA انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا گیا کہ وہ ریٹائریز کے مسائل کے حل میں تعاون کرتی ہے۔ چیئرمین پیارے ذوالفقار علی نے مختصر خطاب میں حاضرین کی آمد کا شکریہ ادا کیا۔ باہمی اتحاد و اعتماد پر خراج تحسین پیش کیا گیا اور کہا کہ ’’پیوستہ رہ شجر سے، اُمید بہار رکھ‘‘ بعد نماز ظہر شرکائے اجلاس کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا گیا۔ مرحوم ساتھیوں کے لیے دعائے مغفرت اور بیمار ساتھیوں بشمول ڈاکٹر منظور عباسی اور ملک محمد اسلم صحت یابی کے لیے دعا کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اجلاس عام ادا کیا کیا گیا پیش کی
پڑھیں:
اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی دارالحکومت میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات کار میں توسیع کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، یہ فیصلہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہونے والے کفایت شعاری سے متعلق اجلاس میں کیا گیا۔
اجلاس میں طے پایا کہ اسلام آباد میں دکانیں اور شاپنگ مالز اب رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ شادی ہالز کو رات 10 بجے تک اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔
اسی طرح ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں بھی نرمی کرتے ہوئے انہیں رات 11 بجے تک کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز کو مقررہ اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ فارمیسیوں، اسپتالوں اور پیٹرول پمپس کو ان پابندیوں سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا اور وہ معمول کے مطابق اپنی خدمات جاری رکھ سکیں گے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق نئے اوقات کار کا مقصد توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے، جبکہ اس فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق مزید ہدایات جلد جاری کی جائیں گی۔
مزید پڑھیں۔ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟