فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے 1 ہزار 10 ہونڈا سٹی گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی حکومت نے منظوری بھی دے دی ہے۔ ایف بی آر 1 ہزار 10 گاڑیوں کی خریداری کے لیے 3 ارب روپے کی پیشگی ادائیگی کرے گا جبکہ  باقی رقم اس وقت ادا کی جائے گی جب 500 گاڑیوں کی ترسیل مکمل ہو جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: امیر طبقہ ٹیکس نہیں دیتا، وصولی کے لیے نظام بنایا جارہا ہے، چیئرمین ایف بی آر۔

ایف بی آر کے اس فیصلے پر صارفین کی جانب سے خوب تنقید کی جا رہی ہے، وہاج سراج نامی صارف نے لکھا کہ تقریباً 6 ارب روپے ٹیکس دہندگان کی محنت کی کمائی سے جن میں تنخواہ دار طبقہ بھی شامل ہے (جو 40% تک کے ظالمانہ ٹیکس ادا کرتا ہے) ایف بی آر کے افسران کے لیے 1,010 ہونڈا سٹی گاڑیاں خریدنے پر خرچ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ ٹیکس دہندہ ہیں، تو آپ کو یہ جاننا چاہیے کہ آپ کا پیسہ کہاں جا رہا ہے۔

About Rs.

6 billion of hard earned money of tax payers including salaried class (taxed oppressively up to 40%) is being spent on buying 1,010 Honda City cars for FBR officials.

If you’re a tax payer, you should know where your money is going. pic.twitter.com/MDuQ5CUryz

— Wahaj Siraj (@WahajSiraj1) January 12, 2025

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب نے کہا ہے کہ ایف بی آر 1010 ہنڈا سٹی گاڑیاں خریدنے جا رہا ہے جبکہ ایف بی آر نے اس مالی سال کے پہلے 6 مہینوں میں 400 ارب روپے کا ریونیو شارٹ فال رپورٹ کیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام پر بھاری ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے، ایف بی آر ان گاڑیوں کو ٹیکس دہندگان کی رقم سے خریدے گا۔ یہ کتنی افسوسناک صورتحال ہے خاص طور پر جب ہم آئی ایم ایف کے پروگرام میں ہیں۔

عمر ایوب نے مسلم لیگ ن کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کی پی ایم ایل این حکومت عوام کی مشکلات سے بالکل غافل ہے۔

صحافی اویس یوسفزئی لکھتے ہیں کہ ایف بی آر آخر اربوں روپے مالیت کی 1 ہزار نئی گاڑیوں کا کرے گا کیا؟ کیا پہلے ملازمین کے پاس گاڑیاں نہیں جو اب ایک ساتھ دینے کا منصوبہ بنایا ہے یا ادارے میں ہزار نئی بھرتیاں ہوئی ہیں جن کے لیے ایف بی آر کو مونوگرام والی گاڑیاں درکار ہیں۔

ایف بی آر آخر اربوں روپے مالیت کی ایک ہزار نئی گاڑیوں کا کرے گا کیا؟ کیا پہلے ملازمین کے پاس گاڑیاں نہیں جو اب ایک ساتھ دینے کا منصوبہ بنایا ہے یا ادارے میں ہزار نئی بھرتیاں ہوئی ہیں جن کے لیے ایف بی آر کے مونوگرام والی گاڑیاں درکار ہیں https://t.co/RZ2hbTsTtP

— Awais Yousaf Zai (@awaisReporter) January 13, 2025

ایک ایکس صارف نے لکھا کہ قرضوں میں جکڑے ملک کی ایف بی آر غریب لوگوں اور تنخواہ داروں کے ٹیکس کاٹ کر 6 ارب سے 1 ہزار ہنڈا سٹی گاڑیاں لے رہے ہیں اس ملک میں مراعات یافتہ کے لیے غریب کا خون چوسا جاتا ہے۔

قرضوں میں جکڑے ملک کی ایف بی آر نے غریب لوگوں اور تنخواہ داروں کے ٹیکس کاٹ کر چھ ارب سے ایک ہزار ہنڈا سٹی گاڑیاں لے رہے ہیں
اس ملک میں مراعات یافتہ کے لئے غریب کا خون چوسا جاتا ہے https://t.co/nCVsW76OLs

— RAShahzaddk (@RShahzaddk) January 12, 2025

ایک صارف کا کہنا تھا کہ یہ بہت شرمناک ہے اور اس فیصلے کی مذمت ہونی چاہیے۔ بھاری ٹیکسوں کی وجہ سے تنخواہ دار طبقے کو بہت نقصان ہو رہا ہے جبکہ ٹیکس جمع کرنے والے ان پیسوں کو عیش و عشرت کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

This is shameful and should be condemned. Salaried class is suffering alot due to huge taxes and the collectors are using money for luxuries ???? https://t.co/3CTagQIEs5

— Ooomigooo (@saeedherl) January 13, 2025

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے ایف بی آر کے اس فیصلے کو ’شرمناک‘ قرار دے دیا۔

Shameful.. https://t.co/LgmhNyDNXK

— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) January 12, 2025

 

سرکاری دستاویزات کے مطابق گاڑیوں کے لیے کئی اضافی خصوصیات شامل کی گئی ہیں جس میں نیویگیشن سسٹم کے ساتھ ریورس کیمرا، اعلیٰ معیار کا اندرونی ڈیزائن، 20,000 کلومیٹر یا 12 ماہ تک مفت پیریاڈک مینٹیننس، اور چار سال یا 100,000 کلومیٹر کی توسیعی وارنٹی شامل ہیں۔

ایف بی آر نے ہر گاڑی میں ٹریکنگ سسٹم نصب کرنے کی درخواست کی ہے، جس میں ایک سال کی سروس چارج اور سبسکرپشن کی تجدید کے لیے رعایتی پیشکش شامل ہوگی۔ ایف بی آر کو اس ماہ 75 گاڑیاں ملیں گی، اس کے بعد فروری میں 200، مارچ میں 225، اپریل میں 250 اور آخرکار مئی 2025 میں باقی 260 گاڑیاں ڈیلیور کی جائیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اضافی ٹیکس ایف بی آر ٹیکس دہندگان نئی گاڑیاں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایف بی ا ر ٹیکس دہندگان نئی گاڑیاں ایف بی ا ر ایف بی آر رہے ہیں کے لیے رہا ہے

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی