اسلام آباد میں صحت سہولیات کی فراہمی کیلئے وزیراعطم پاکستان کا اہم اقدام، پمز ہسپتال کا خصوصی ہیلپ لائن نمبر جاری
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2025 GMT
اسلام آباد میں صحت سہولیات کی فراہمی کیلئے وزیراعطم پاکستان کا اہم اقدام، پمز ہسپتال کا خصوصی ہیلپ لائن نمبر جاری WhatsAppFacebookTwitter 0 13 January, 2025 سب نیوز
اسلام اباد (سب نیوز )اسلام آباد میں صحت سہولیات کی فراہمی کیلئے وزیراعطم پاکستان کا اہم اقدام،دارالحکومت کے سب سے بڑے ہسپتال پمز میں علاج کی بہترین سہولیات کی فراہمی جاری ،وزیراعظم میاں محمدشہبازشریف کی خصوصی ہدایات پر مریضوں کی سہولت کیلئے خصوصی پمز ہیلپ لائن نمبر جاری ،مریض ہسپتال میں علاج کے سلسلے میں درپیش مسائل کی صورت میں براہ راست (0519071711) رابطہ کرسکتے ہیں ،مریضوں اورلواحقین کی سہولت اورآگاہی کیلئے ہسپتال میں جگہ جگہ سائن بورڈزآویزاں کیے گئے ہیں ،پمز کے اوپی ڈی اور ایمرجنسی میں ہزاروں مریض علاج کی غرض سے آتے ہیں۔
،وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے صحت ڈاکٹرملک مختاراحمدبرتھ کی کاوشیں رنگ لے آئیں ۔ترجمان ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز ہسپتال ڈاکٹرمبشرمشتاق ڈاہا کے مطابق مریضوں کی خدمت کیلئے سینئرڈاکٹرزکی 24گھنٹے ہسپتال میں دستیابی یقینی بنادی ہے، ای ڈی پمز ڈاکٹرعمران سکندرہیلپ لائن پررابطے کرنے والے مریضوں کی شکایات کوبروقت حل کروانے کیلئے کوشاں ہیں ہسپتال میں روزانہ ہزاروں مریضوں کو بنیادی ادویات مفت فراہم کی جارہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔