وزیراعلی سندھ نے وزیراعظم کو خط لکھ کر نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے سندھ کے لیے کم فنڈز مختص کرنے پر احتجاج کیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2025 GMT
کراچی: وزیراعلی سندھ نے وزیراعظم کو خط لکھ کر نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے سندھ کے لیے کم فنڈز مختص کرنے پر احتجاج کیا ہے۔
زرائع کے مطابق وزیراعظم کو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے خط میں کہا ہے کہ یہ بات قابل تشویش ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے سندھ کے لئے 5 فیصد سے بھی کم رقم رکھی ہے، این ایچ اے نے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں سندھ کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پنجاب کے 33 منصوبوں پر 38.
مراد علی شاہ نے کہا کہ حیدرآباد سکھر موٹروے کی تعمیر ملک کی ترقی کے لئے انتہائی اہم ہے، این ایچ اے کو ہدایات جاری کریں کہ وہ حیدرآباد سکھر ایم 6 موٹروے کا کام شروع کریں ـ
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: سندھ کے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔