اسلام آباد:

وزیراعظم کو الیکٹرک وہیکل پالیسی سے آگاہ کردیا گیا، پاور ڈویژن نے الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بجلی کے نرخ میں 44 فیصد کی تاریخ ساز کمی کردی، اس اقدام سے پیٹرول اور گیس کے مقابلے میں سفری اخراجات میں تین گُنا بچت ممکن ہوگی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت الیکٹرک وہیکلز کے فروغ کے حوالے سے اہم اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔

اجلاس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاور ڈویژن کی جانب سے الیکٹرک وہیکلز کی پالیسی انتہائی خوش آئند ہے، پاور ڈویژن کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں کے لیے خصوصی 44 فیصد کم رعایتی ٹیرف ایک تاریخ ساز پیکیج ہے، بجلی سے چلنے والی گاڑیوں سے پٹرول اور ڈیزل کی درآمد کی مد میں زر مبادلہ کی بچت ہوگی اور  ماحول دوست سفری سہولیات دستیاب ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں : شہریوں کو ایندھن سے الیکٹرک گاڑیوں پر منتقل کرنے کیلیے حکومت کا بڑا اعلان

وزیراعظم نے الیکٹرک گاڑیوں کے حوالے سے نئی حکومتی پالیسی کی بھرپور تشہیر کرنے اور آگاہی مہم کی ہدایت کی۔

اجلاس کو الیکٹرک وہیکلز کے لئے نئی حکومتی پالیسی پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز کو موجودہ فی یونٹ 71روپے اب 39.

70 روپے فی یونٹ ملے گا۔ اس کمی کی وجہ سے اب پیٹرول اور دوسرے ایندھن کے مقابلے سفری اخراجات میں تین گُنا تک بچت ممکن ہوسکے گی۔

اجلاس کو مزید بتایا کہ  مُلک میں پیٹرول اور دوسرے ایندھن پر انحصار کم ہونے کی وجہ سے بھاری زرمبادلہ کی بھی بچت ہوگی اور مُضر صحت گیسز کے اخراجات کو روکنے میں بھی مدد ملے گی جس سے فضائی آلودگی سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ رعایتی بجلی نرخ اور الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز سے متعلق ریگولیشنز کے اجراء سے نئے منافع بخش کاروبار اور سرمایہ کاری کے مواقع میسر آئیں گے جس سے نہ صرف ملازمت کے نئے مواقع ملیں گے بلکہ پوری مُلکی معیشت کو بھی تقویت ملے گی؛ الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز سے متعلق ضوابط کے نفاذ سے 15دنوں میں رجسٹریشن اور کاروبار کی اجازت ملے گی۔

اس کے ساتھ ساتھ مُلک کی تاریخ کی پہلی الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز کے قیام اور بیٹریوں کے متبادل پوائنٹ سے متعلق قواعد و ضوابط کا بھی بنالیے گئے ہیں۔ مسابقتی مارکیٹ کو یقینی بنانے اور مُلکی و غیر مُلکی براہ راست سرمایہ کاری کو ممکن بنانے کیلئے ریگولیشنز کو انتہائی آسان بنایا گیا۔ ان قواعد و ضوابط کے تحت نییکا کا ادارہ چارجنگ اسٹیشنز پر تحفظاتی اقدامات کو یقینی بنائے گا اور ہر چارجنگ اسٹیشن کی سالانہ انسپکشن ہوگی۔
 
اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ ، وفاقی وزیر پاور سردار اویس احمد لغاری ، وزیراعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی رومینہ خورشید عالم اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی-

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وفاقی وزیر اجلاس کو ملے گی

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر انتخابات: لاہور ڈویژن کے کن 2 حلقوں میں پولنگ ہوگی؟
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش