جیل میں ایک وقت کا کھانا دیا جاتا تھا، اچھی بات ہے میرا وزن کم ہوگیا، مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2025 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز— فائل فوٹو
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ مجھے جیل میں ایک وقت کا کھانا دیا جاتا تھا، اچھی بات ہے میرا وزن کم ہوگیا۔
اوکاڑہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے والد نے 45 سال ملک کی خدمت کی ہے، نواز شریف کو اقامہ پر نکالا گیا، مجھے اپنے والد کے ساتھ کھڑے ہونے کی سزا دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ آج 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ آیا، القادر ٹرسٹ کیس میں چوری ثابت ہوئی یہ پہلا وزیراعظم ہے جو چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا، بانی پی ٹی آئی پہلے وزیراعظم ہیں جن کو کرپشن پر سزا سنائی گئی ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ آج کے فیصلے کے بعد پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی، یہ شخص اسی اڈیالہ جیل میں قید ہے جس میں نوازشریف اور میں قید تھے۔
بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ پہلے بھی ایسی سزائیں دی گئیں جو ہائیکورٹ میں جا کر ختم ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ میرے سیل میں کیمرے لگائے گئے تھے، وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا، اس شخص کو جیل میں اچھا کھانا اور دیگرسہولتیں مل رہی ہیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ القادر یونیورسٹی سرکاری تحویل میں دے دی گئی، اب وہ یونیورسٹی میرے پاس آگئی ہے، القادر یونیورسٹی کے طلبا کو بھی اسکالرشپ دی جائے گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ نوجوانوں کو ترغیب دی گئی کہ سوشل میڈیا پر جو دیکھیں اس پر آنکھیں بند کر کے یقین کرلیں، جنہیں آج ورغلایا گیا وہ آج جیلوں میں ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مریم نواز انہوں نے جیل میں
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ