گرفتار خاتون کا بیٹوں اور خود کے انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2025 GMT
علامتی فوٹو
انسانی اسمگلر گینگ کی مبینہ رکن غلام فاطمہ نے خود کے اور اپنے بیٹوں کے انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا اعتراف کرلیا۔
موریطانیہ کشتی حادثے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے گجرات میں بڑی کارروائی کی اور انسانی اسمگلر گینگ کی مبینہ رکن غلام فاطمہ کو گرفتار ی کے بعد تفتیش مکمل کر کے جوڈیشل کردیا گیا۔
کشتی حادثے کے کیس میں تارکین وطن پر انسانی.
ذرائع کے مطابق غلام فاطمہ نے تفتیش کے دوران اپنے اور بیٹوں کے انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا اور کہا کہ وہ اپنے تین بیٹوں کے ساتھ مل کر لوگوں کو بیرون ممالک بھیجنے کا کام کرتی تھی۔
ذرائع کےمطابق خاتون نے اعتراف کیا کہ میرا بیٹا خاور کم و بیش 10 افراد کو لے کر کیریئر کے طور پر سینیگال گیا، وہ اس سے پہلے اپریل میں بھی وہاں جاچکا تھا۔
ذرائع کے مطابق دوران تفتیش غلام فاطمہ نے بتایا کہ میرا ایک بیٹا حسن اٹلی میں ہے جبکہ دوسرا بیٹا فرحان واقعے کے بعد سے مفرور ہے۔
ذرائع کے مطابق انسانی اسمگلر گینگ کی مبینہ خاتون رکن کو ایف آئی اے نے 1 روز قبل جھوڑا گاؤں سے گرفتار کیا تھا ،تفتیش کی راز داری کےلیے یہ بات میڈیا نہیں بتائی گئی۔
ذرائع کے مطابق غلام فاطمہ پڑوس میں چھپی تھیں، جسے گرفتار کرکے موبائل فونز اور بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات حاصل کرلی گئیں۔
ذرائع کے مطابق لوگوں کو بیرون ممالک بھیجنے کے نام پر اکٹھی رقم سے ایک نئی گاڑی بھی لی گئی، جو ایف آئی اے نے برآمد کرلی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ذرائع کے مطابق غلام فاطمہ
پڑھیں:
غیر قانونی سگریٹ برآمد، 11 ٹرکوں سے 2 کروڑ 50 لاکھ سگریٹ ضبط
اسلام آباد: ملک میں غیر قانونی سگریٹ برآمد ہونے کے ایک بڑے کیس میں کسٹمز انفورسمنٹ اور موٹروے پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے 11 ٹرکوں سے تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ سگریٹ قبضے میں لے لیے۔ حکام کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کی گئی جبکہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر چار ٹرکوں کے ذریعے غیر قانونی سگریٹ پنجاب منتقل کیے جانے کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔ بعد ازاں نگرانی کا دائرہ وسیع کیا گیا، جس کے نتیجے میں مزید گاڑیوں کی تلاشی کے دوران مجموعی طور پر 11 ٹرکوں سے بڑی مقدار میں سگریٹ برآمد ہوئے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق یہ کھیپ خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی سے پنجاب کے مختلف شہروں، جن میں لاہور، ملتان اور سرگودھا شامل ہیں، روانہ کی جا رہی تھی۔ حکام کے مطابق ترسیل کے لیے نجی ٹرانسپورٹ استعمال کی گئی۔
برآمد ہونے والے سگریٹ مختلف برانڈز پر مشتمل ہیں۔ متعلقہ ادارے ان برانڈز کے ٹیکس ریکارڈ، قانونی حیثیت، سپلائی چین اور ترسیلی نیٹ ورک کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ان مصنوعات پر تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے تھے یا نہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد غیر قانونی تجارت، ٹیکس چوری اور اسمگلنگ کی روک تھام ہے۔ اس سلسلے میں ضبط شدہ سامان کی جانچ، متعلقہ دستاویزات کی تصدیق اور مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے غیر قانونی سگریٹ، ٹیکس چوری اور اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ متعلقہ اداروں کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد قانون کے مطابق مزید اقدامات کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ اس مرحلے پر کسی فرد یا ادارے کے خلاف باضابطہ طور پر جرم ثابت نہیں ہوا، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا۔