روس کیلیے یوکرین کیخلاف لڑتے ہوئے 12 بھارتی ہلاک اور 16 لاپتا؛ مودی سرکار کی تصدیق
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2025 GMT
بھارتی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ روس اور یوکرین جنگ کے درمیان 12 بھارتی شہری ہلاک ہوگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بتایا کہ 126 بھارتیوں کو روسی فوج میں بھرتی کیا گیا تھا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جن میں سے 96 بھارتی واپس وطن لوٹ چکے ہیں تاہم اب تک 12 بھارتی فوجی روس کی طرف سے لڑتے ہوئے مارے گئے۔
بھارتی وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ روس کی طرف سے لڑنے والے 16 دیگر بھارتی تاحال لاپتا ہیں۔ روسی حکومت کو بھی ان کا علم نہیں۔
ترجمان بھارتی وزارت خارجہ نے کہا کہ 2 بھارتی شہری اب بھی روسی فوج کا حصہ ہیں اور یوکرین کے خلاف جنگ میں شامل ہیں۔
یاد رہے کہ کچھ روز قبل بھارتی اخبارات میں شائع ہونے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ زیادہ تر بھارتیوں کو بہانے یا جبری طور جنگ میں دھکیلا گیا۔
ان رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ ان بھارتیوں کو روسی فوج میں مالی، باورچی یا دیگر سول کاموں کے لیے ملازمت دی گئی تھی۔
تاہم یوکرین جنگ شروع ہوتے ہی ان بھارتیوں کو بھی میدان جنگ میں زبردستی بھیجا گیا تھا۔
علاوہ ازیں کچھ بھارتیوں کو ٹریول ایجنٹس نے مزدوری اور دیگر ملازمتوں کے بہانے روس بھیجا جہاں انھیں فوج میں بھرتی کیا گیا تھا۔
تاہم بھارتی وزارت خارجہ نے اس حوالے سے کی گئی تحقیقات کے بارے میں اب تک کچھ نہیں بتایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارتی وزارت خارجہ گیا تھا
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔