سیسی میں غیر معیاری ادویات کی خریداری عروج پر،چند کالی بھیڑوں نے کمائی کا ذریعہ بنالیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
سنگین شکایات آنے پر وزیر محنت سعید غنی نے ڈائریکٹر پروکیورمنٹ اور ذمہ دار افسران کوعہدہ سے فارغ کردیا
سینئر افسر ڈاکٹر اکرم شیخ ڈائریکٹر پروکیورمنٹ تعینات، مریضوں کو معیاری ،بہترین ادویات کی فراہمی کی ہدایت
سیسی میں غیر معیاری ادویات کی خریداری کی شکایات، ڈائریکٹر پروکیورمنٹ اور ذمہ دار افسران عہدہ سے فارغ، سینئر افسر ڈاکٹر اکرم شیخ کو ڈائریکٹر پروکیورمنٹ تعینات کر دیا گیا۔ جرأت کی رپورٹ کے مطابق سندھ ایمپلائز سیکورٹی انسٹی ٹیوشن(سیسی) میں غیر معیاری ادویات کی خریداری کے حوالے سے محنت کشوں، ان کی یونینز اور مختلف فیڈریشن کی جانب سے سنگین شکایات سامنے آنے پر وزیر محنت سعید غنی نے ڈائریکٹر پروکیورمنٹ نادر علی کناسرو کو فوری طور پر ان کے عہدہ سے ہٹا دیا ہے۔ ماضی میں نادر کناسرو پر کرپشن کے الزامات بھی لگتے رہے۔ موجودہ مالی سال کے آغاز کے ساتھ سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن کے اسپتالوں و ڈسپنسریوں میں رجسٹرڈ محنت کشوں اور ان اہل خانہ کے لیے خریدی جانے والی ادویات کے حوالے سے مزدوروں کے نمائندے مسلسل شکایات کرتے رہے، ان کا کہنا تھا کہ سیسی ہیڈ آفس سے سپلائی کی جانے والی ادویات غیر معیاری ہیں، اس حوالے سے مختلف اسپتالوں کے سامنے احتجاج بھی کیا گیا، علاج و معالجہ کے لیے آنے والے سیسی میں رجسٹرڈ محنت کشوں کا کہنا تھا جو ادویات ان اسپتالوں میں فراہم کی جارہی ہیں وہ غیر معیاری ہیں، اور مستند و قابل بھروسہ کمپنیوں کے بجائے غیر معروف کمپنوں کی ادویات فراہم کی جا رہی ہیں، اطلاعات کے مطابق ان شکایات و احتجاج کے بعد صوبائی وزیر محنت نے کمشنر سیسی سے تفصیلات طلب کیں اور اس کی روشنی فوری طور پر ڈائریکٹر پروکیورمنٹ سیسی اور ذمہ دار افراد کو ان کے عہدوں سے فارغ کر دیا گیا ہے، سینئر افسر ڈاکٹر اکرم شیخ کو ڈائریکٹر پروکیورمنٹ سیسی تعینات کیا گیا ہے، انھیں ہداہت کی گئی ہے کہ فوری طور پر مریضوں کو معیاری اور بہترین ادویات کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ یاد رہے کہ وزیر محنت سعید غنی نے بھی ایک ہفتہ قبل محکمہ محنت کا قلمدان سنبھالا ہے۔ محنت کش تنظیموں کا مطالبہ ہے اس سارے معاملہ کی فوری طور اعلی سطحی انکوائری کروائی جائے اور ذمہ دار افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے، پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن کے مرکزی صدر مختار حسین اعوان سمیت مزدور رہنماؤں نے وزیر محنت سعید غنی کے حالیہ اقدامات کو سراہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: اور ذمہ دار غیر معیاری ادویات کی فوری طور
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔