اسلام آباد:

سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی کے ملازمین کے خلاف درج مقدمے میں اسپیشل جج سینٹرل اسلام آباد ہمایوں دلاور نے سابق ڈائریکٹر چائنا ڈیسک ڈاکٹر فرقان راؤ کی ضمانت منظور کر لی۔

سماعت کے دوران عدالت نے ایف آئی اے کے تفتیشی افسر پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور پوچھا کہ درخواست گزار کو کس بنیاد پر مقدمے میں شامل کیا گیا؟ کیا کسی قسم کی رقم کی ٹرانزیکشن موجود ہے؟

تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈاکٹر فرقان راؤ کو ایک ملازم کے بیان کی بنیاد پر مقدمے میں شامل کیا گیا ہے۔ اس پر جج نے استفسار کیا کہ کیا کسی رقم کی منتقلی کا ریکارڈ موجود ہے؟ جس پر تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ ڈاکٹر فرقان راؤ کے اکاؤنٹ میں کوئی رقم منتقل نہیں ہوئی۔

عدالت نے مزید پوچھا کہ کیا کسی قسم کی کیش وصولی کا کوئی تحریری ثبوت موجود ہے؟ تفتیشی افسر نے اعتراف کیا کہ کیش وصولی کا بھی کوئی باضابطہ ثبوت نہیں ہے۔

جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیے کہ حیرت ہے، صرف ایک بیان کی بنیاد پر افسر کو مقدمے میں شامل کر لیا گیا۔ انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا فرقان راؤ کے خلاف مقدمہ اے پی پی کی ہدایت پر درج کیا گیا ہے؟

دورانِ سماعت وکیل ڈاکٹر فرقان راؤ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل نے گزشتہ سال مارچ میں دفتر میں تشدد کے واقعے پر مقدمہ درج کروایا تھا، جس کے بعد انتقامی کارروائی کے طور پر انہیں اس کیس میں ملوث کیا گیا۔

وکیل نے کہا کہ جس انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر فرقان راؤ کو شاملِ تفتیش کیا گیا، اس کمیٹی کے چیئرمین اور رکن خود ایف آئی آر میں نامزد ملزمان ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اے پی پی کی جانب سے مقدمے میں نامزدگی ذاتی عناد اور بدنیتی پر مبنی ہے۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل نے آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سیکشن میں کبھی کام نہیں کیا، اور تنخواہ کے علاوہ ان کے اکاؤنٹ میں ایک روپیہ بھی منتقل نہیں ہوا۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد ڈاکٹر فرقان راؤ کی ضمانت منظور کر لی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ڈاکٹر فرقان راؤ تفتیشی افسر بنیاد پر اے پی پی کیا گیا کیا کہ

پڑھیں:

کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج

کراچی:

شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔

اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔ 

23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔ 

مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔ 

مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔ 

واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔ 

واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ 

گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔

متعلقہ مضامین

  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ