بھوپال: پالتو جانوروں کی ناچاقی نے توڑ دیارشتہ، طلاق کیلیے عدالت پہنچا جوڑا
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھوپال: بھارت کے شہر بھوپال میں ایک نوجوان جوڑے نے اپنے پالتو جانوروں کی آپسی دشمنی سے تنگ آکر طلاق کی کارروائی شروع کر دی، حیران کن طور پر یہی جوڑا چند سال قبل جانوروں سے محبت کے باعث ایک دوسرے کے قریب آیا تھا اور بالآخر شادی کے بندھن میں بندھ گیا تھا مگر اب ان کے کتے اور بلی کی لڑائیاں ان کے رشتے کے خاتمے کا باعث بن رہی ہیں۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھوپال فیملی کورٹ میں جمع کرائے گئے دعوے میں جوڑے نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے ہیں کہ شادی کے فوراً بعد ان کے درمیان اختلافات کی بڑی وجہ پالتو جانوروں کے درمیان کشیدگی بن گئی، دسمبر 2024 میں شادی کے بعد جب دونوں ایک ہی گھر میں منتقل ہوئے تو حالات بگڑنے لگے۔
خاتون نے مؤقف اختیار کیا کہ شوہر کا کتا اکثر اس کی بلی کو ہراساں کرتا اور حملہ کرتا رہا، جس کے باعث گھر کا ماحول خراب ہو گیا۔
دوسری جانب شوہر کا کہنا ہے کہ اس نے شادی سے قبل ہی واضح کر دیا تھا کہ وہ نہیں چاہتا کہ بیوی اپنے پالتو جانوروں کو ساتھ لائے کیونکہ بلی نہ صرف کتے کو چڑاتی تھی بلکہ اکثر مچھلیوں کے ایکویریم پر منڈلاتی رہتی تھی، جس سے تناؤ بڑھ جاتا تھا۔
فیملی کورٹ کے ذرائع کے مطابق دونوں نے کئی بار مصالحت کی کوشش کی، حتیٰ کہ ماہرینِ نفسیات اور پالتو جانوروں کے تربیت کاروں سے بھی مدد لی مگر کتے اور بلی کی دشمنی ختم نہ ہو سکی، نتیجتاً اب دونوں نے باضابطہ طور پر طلاق کی درخواست دے دی ہے۔
عدالتی عملے کا کہنا ہے کہ یہ کیس انوکھا ہونے کے ساتھ ساتھ سبق آموز بھی ہے کیونکہ یہاں انسان نہیں بلکہ ان کے پالتو جانور شادی کے اختتام کی وجہ بن گئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پالتو جانوروں شادی کے
پڑھیں:
سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد:عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔