data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بھوپال: بھارت کے شہر بھوپال میں ایک نوجوان جوڑے نے اپنے پالتو جانوروں کی آپسی دشمنی سے تنگ آکر طلاق کی کارروائی شروع کر دی،  حیران کن طور پر یہی جوڑا چند سال قبل جانوروں سے محبت کے باعث ایک دوسرے کے قریب آیا تھا اور بالآخر شادی کے بندھن میں بندھ گیا تھا مگر اب ان کے کتے اور بلی کی لڑائیاں ان کے رشتے کے خاتمے کا باعث بن رہی ہیں۔

عالمی میڈیا  رپورٹس کے مطابق بھوپال فیملی کورٹ میں جمع کرائے گئے دعوے میں جوڑے نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے ہیں کہ شادی کے فوراً بعد ان کے درمیان اختلافات کی بڑی وجہ پالتو جانوروں کے درمیان کشیدگی بن گئی، دسمبر 2024 میں شادی کے بعد جب دونوں ایک ہی گھر میں منتقل ہوئے تو حالات بگڑنے لگے۔

خاتون نے مؤقف اختیار کیا کہ شوہر کا کتا اکثر اس کی بلی کو ہراساں کرتا اور حملہ کرتا رہا، جس کے باعث گھر کا ماحول خراب ہو گیا۔

 دوسری جانب شوہر کا کہنا ہے کہ اس نے شادی سے قبل ہی واضح کر دیا تھا کہ وہ نہیں چاہتا کہ بیوی اپنے پالتو جانوروں کو ساتھ لائے کیونکہ بلی نہ صرف کتے کو چڑاتی تھی بلکہ اکثر مچھلیوں کے ایکویریم پر منڈلاتی رہتی تھی، جس سے تناؤ بڑھ جاتا تھا۔

فیملی کورٹ کے ذرائع کے مطابق دونوں نے کئی بار مصالحت کی کوشش کی، حتیٰ کہ ماہرینِ نفسیات اور پالتو جانوروں کے تربیت کاروں سے بھی مدد لی مگر کتے اور بلی کی دشمنی ختم نہ ہو سکی، نتیجتاً اب دونوں نے باضابطہ طور پر طلاق کی درخواست دے دی ہے۔

عدالتی عملے کا کہنا ہے کہ یہ کیس انوکھا ہونے کے ساتھ ساتھ سبق آموز بھی ہے کیونکہ یہاں انسان نہیں بلکہ ان کے پالتو جانور شادی کے اختتام کی وجہ بن گئے ہیں۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پالتو جانوروں شادی کے

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی