کبریٰ خان نے شادی کی پیشکش ٹھکرادی تھی لیکن میں نے ہار نہیں مانی، گوہر رشید
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
کراچی(نیوز ڈیسک)اداکار گوہر رشید نے انکشاف کیا ہے کہ کبریٰ خان نے شادی کیلئے میری پیشکش ٹھکرادی تھی لیکن میں نے ہار نہیں مانی۔
حال ہی میں ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ وہ اور کبریٰ خان ابتدا میں صرف اچھے دوست تھے دونوں کا کوئی رومانوی تعلق نہیں تھا مگر وقت کے ساتھ یہ دوستی محبت میں بدل گئی۔
گوہر رشید کے مطابق وہ ہمیشہ سے مکہ مکرمہ میں نکاح کرنے کی خواہش رکھتے تھے اور اتفاق سے کبریٰ خان بھی یہی چاہتی تھیں، قسمت نے جب دونوں کو ایک کیا تو ان کا نکاح بھی مقدس سرزمین مکہ میں ہی ہوا۔
اداکار نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ محبت کی شروعات ان کی طرف سے ہوئی، وہ شروع سے ہی کبریٰ کی طرف مائل تھے مگر دوست ہونے کی وجہ سے کبھی اس زاویے سے نہیں سوچا۔ کبریٰ نے ابتدا میں میری پیشکش قبول نہیں کی مگر میں نے ہار نہیں مانی اور آخرکار کبریٰ خان نے ہاں کہہ دی۔
انہوں نے کہا کہ دوستی پر مبنی شادی ایک بڑی نعمت ہے کیونکہ اس میں اعتماد اور سمجھ بوجھ کا رشتہ پہلے سے قائم ہوتا ہے۔
گوہر رشید نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ شادی سے پہلے اپنی دنیاوی خواہشات پوری کرلیں کیونکہ شادی ایک روحانی بندھن ہے جس میں ذمہ داری اور قربانی شامل ہے۔
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بیوی کو تحفے دینا اچھی بات ہے لیکن سب سے بڑا تحفہ اسے تحفظ اور آزادی دینا ہے تاکہ وہ خود کو محفوظ اور بااعتماد محسوس کرے۔
ان کے مطابق کبریٰ خان میری زندگی کی سب سے بڑی نعمت ہیں اور میں اس رشتے کے لیے شکر گزار ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: گوہر رشید
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔