کراچی:

اداکار گوہر رشید نے انکشاف کیا ہے کہ کبریٰ خان نے شادی کیلئے میری پیشکش ٹھکرادی تھی لیکن میں نے ہار نہیں مانی۔

حال ہی میں ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ وہ اور کبریٰ خان ابتدا میں صرف اچھے دوست تھے دونوں کا کوئی رومانوی تعلق نہیں تھا مگر وقت کے ساتھ یہ دوستی محبت میں بدل گئی۔

گوہر رشید کے مطابق وہ ہمیشہ سے مکہ مکرمہ میں نکاح کرنے کی خواہش رکھتے تھے اور اتفاق سے کبریٰ خان بھی یہی چاہتی تھیں، قسمت نے جب دونوں کو ایک کیا تو ان کا نکاح بھی مقدس سرزمین مکہ میں ہی ہوا۔

اداکار نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ محبت کی شروعات ان کی طرف سے ہوئی، وہ شروع سے ہی کبریٰ کی طرف مائل تھے مگر دوست ہونے کی وجہ سے کبھی اس زاویے سے نہیں سوچا۔ کبریٰ نے ابتدا میں میری پیشکش قبول نہیں کی مگر میں نے ہار نہیں مانی اور آخرکار کبریٰ خان نے ہاں کہہ دی۔

انہوں نے کہا کہ دوستی پر مبنی شادی ایک بڑی نعمت ہے کیونکہ اس میں اعتماد اور سمجھ بوجھ کا رشتہ پہلے سے قائم ہوتا ہے۔

گوہر رشید نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ شادی سے پہلے اپنی دنیاوی خواہشات پوری کرلیں  کیونکہ شادی ایک روحانی بندھن ہے جس میں ذمہ داری اور قربانی شامل ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بیوی کو تحفے دینا اچھی بات ہے لیکن سب سے بڑا تحفہ اسے تحفظ اور آزادی دینا ہے تاکہ وہ خود کو محفوظ اور بااعتماد محسوس کرے۔

ان کے مطابق کبریٰ خان میری زندگی کی سب سے بڑی نعمت ہیں اور میں اس رشتے کے لیے شکر گزار ہوں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: گوہر رشید

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: بھینس کالونی میں شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ، دلہا گرفتار
  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • شیخ رشید نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں رکنیت بحالی کی درخواست جمع کرا دی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا