ویب ڈیسک: تھرپارکر کے قریب بھارتی فورسز نے سرحدی گاؤں سنورانی میں بکریوں کو ہلاک اور زخمی کردیا، بھارتی فوج نے 8 بکریوں کو ہلاک کردیا جبکہ 54 کی ٹانگیں توڑ دیں،وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی بھارتی فورسز کے ظالمانہ اقدام کی شدید مذمت کی۔

تفصیلات کےمطابق بھارت کے اس بے رحمانہ اقدام پر  مویشیوں کے مالکان نے 43 بکریاں قصابوں کو فروخت کردیں جبکہ 11 زخمی بکریوں کا علاج جاری ہے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات 16 اکتوبر کو منعقد ہوں گے

وزیراعلیٰ سندھ نے بھارتی فورسز کے بکریوں پر ظلم کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فورسز کا رویہ امن کے اصولوں کے منافی ہے، انہوں نے بکریوں کے مالکان کو مدد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سانوڑانی گاؤں میں معصوم جانوروں پر تشدد کے واقعہ کا نوٹس لے لیا، زخمی جانوروں کے علاج کیلئے لائیو اسٹاک ٹیم کی جائے وقوعہ پر ابھی موجود ہے۔ 

وزیراعلیٰ نے لائیو اسٹاک افسران کو متاثرہ علاقے میں مسلسل مانیٹرنگ کی ہدایت کی، حکومت سندھ متاثرہ مالکان کے ساتھ کھڑی ہے، بھارتی فورسز کا رویہ امن کے اصولوں کے منافی ہے۔

 شاہدرہ : شوہر کا بیوی پر چھریوں سے حملہ، گلا کاٹنے کی کوشش

 وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ بھارتی فورسز کا اقدام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، معصوم جانوروں پر تشدد درندگی کی بدترین مثال ہے۔

ایسے واقعات انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہیں،وفاقی حکومت کو معاملہ سفارتی سطح پر اٹھانے کی سفارش کی جائے گی،حکومت سندھ جانوروں کے تحفظ اور فلاح کیلئے اقدامات جاری رکھے گی۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: بھارتی فورسز

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • کراچی: ملیر 15 میں رینجرز اور ایس آئی یو کی کارروائی، 3 بھتہ خور ہلاک
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک