Express News:
2026-06-03@02:46:16 GMT

شرمناک رویہ

اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT

ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں بھارت نے کامیابی تو ضرور حاصل کی مگر ٹرافی کو اپنی نفرت اور ضد کی نذر کر دیا۔ کیا کسی ملک کی ٹیم نے خود کو دنیا کے سامنے اتنا ذلیل کیا کہ خود اس کے اپنے عوام نے اس کے رویے پر تنقید کی ہو، مگر بھارتی کرکٹ ٹیم ہندوتوا انتظامیہ کے حکم پر ایسا کرنے پر مجبور ہوگئی۔

سب سے افسوس بھارتی وزیر اعظم کے اس بیان پر ہے جس میں انھوں نے اپنی پارٹی کے نفرتی منشور کی ترجمانی کرتے ہوئے ایکس پر لکھا ’’ میدان میں آپریشن سندور، نتیجہ وہی رہا انڈیا جیت گیا‘‘ مودی کا یہ نفرتی پیغام کھیل کے شایان شان نہیں۔

کھیل میں جیت پر ضرور ٹیم کو مبارک باد دی جاتی ہے مگر اس کا سیاست سے کیا تعلق؟ اپنے ہی ہم وطنوں کو اپنے ہی دہشت گردوں سے درجنوں معصوم سیاحوں کو صرف ہوس اقتدار کی بھینٹ چڑھانا اور یہ بھی نہیں سوچنا کہ کتنے بچے یتیم ہو جائیں گے اور کتنی ہی خواتین بیوہ ہو جائیں گی، یہ درندگی نہیں ہے تو کیا ہے۔ پھر الزام اپنے دشمن پاکستان پر لگانا سراسر چانکیائی حکمت عملی ہے۔

مودی کا پاکستان پر الزام لگانا بہت ہی آسان منافع بخش سیاسی چورن ہے۔ ابھی حال میں لداخ میں آزادی کا نعرہ لگانے والوں کو کچل دیا گیا، اس تحریک کے بانی سونم وانگ چک کو پاکستانی ایجنٹ قرار دے کر جیل میں ڈال دیا گیا۔

اس سے پہلے سکھ حریت پسند رہنما جگتار سنگھ کو سکھوں کی آزادی کا نعرہ لگانے کی پاداش میں کشمیر کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں قید کر دیا گیا جہاں کئی کشمیری حریت پسند رہنماؤں کو سزائے موت دی جا چکی ہے۔

جگتار سنگھ کو بھی پاکستانی ایجنٹ قرار دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے خالصتان تحریک کے تمام رہنماؤں کو پاکستانی ایجنٹ قرار دیا گیا تھا اور کینیڈا میں مقیم ایک سکھ رہنما کو قتل بھی کیا جا چکا ہے۔

یہ کرکٹ کے لیے انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے کہ پہلی دفعہ ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں سیاسی رنگ چھایا رہا، پہلے پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے گریزکیا گیا اور میچ کے اختتام پر ٹرافی وصول کرنے سے انکار کیا گیا کہ وہ کسی پاکستانی کے ہاتھ سے ٹرافی وصول نہیں کریں گے۔

یہ کھیل کا میدان تھا یا بی جے پی کا سیاسی جلسہ؟ اس نفرت کی وجہ یہ ہے کہ بھارتی کرکٹ انتہا پسندوں کے ہتھے چڑھ چکی ہے۔ بی جے پی پورے بھارت میں نفرت کا طوفان بپا کیے ہوئے ہے۔ بھارت میں بی جے پی کے خلاف بولنے والے کا گھر بلڈوزر سے مسمار کر دیا جاتا ہے۔

یہ نفرت کی انتہا ہے اور یہ نفرت ایسی بلا ہے کہ جو ماضی میں کئی ملکوں کو تباہ و برباد کر چکی ہے۔ کیا جرمنی کی مثال ہمارے سامنے نہیں ہے۔ ہٹلر اور اس کی پارٹی کے لوگ خود کو بڑے فخر سے دنیا کی سب سے اعلیٰ نسل کہتے تھے اور یورپ کی دیگر اقوام کو خود سے کم تر سمجھتے تھے، انھیں نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

پھر انھوں نے یہ نعرہ بلند کیا کہ یورپ کی تمام قوموں کو ان کا محکوم ہو جانا چاہیے کیونکہ حکمرانی کا حق صرف انھیں حاصل ہے۔ پھر ان کے غرور اور ظلم کا یہ حشر ہوا کہ ملک ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور ہٹلر کو خودکشی کرنا پڑی۔

دراصل انتہا پسندوں اور ظالموں کا ایسا ہی انجام ہوتا رہا ہے۔ افسوس کہ مودی نے تاریخ سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا، شاید اس لیے کہ وہ زیادہ پڑھا لکھا ہی کہاں ہے اس کی بی اے کی ڈگری ہی نہیں، لگتا ہے میٹرک کا سرٹیفکیٹ جعلی ہے۔

حزب اختلاف کے رہنماؤں نے مودی کی بی اے کی ڈگری کی حقیقت جاننے کے لیے عدالتوں کے دروازے بھی کھٹکھٹائے ہیں مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی، شاید اس لیے کہ وہاں مودی نے اپنی پسند کے ہندوتوا جج بٹھائے ہوئے ہیں جو مودی کے خلاف کیسے فیصلہ دے سکتے ہیں۔

بھارتی حزب اختلاف کے رہنما مودی کے سندور آپریشن کی حقیقت سے واقف ہو چکے ہیں اس کا مقصد ہندوؤں کو پاکستان کے خلاف ورغلا کر سیاسی فائدہ اٹھانا ہے یعنی الیکشن میں کامیابی حاصل کرنا ہے مگر یہ مودی کی ضرورت ہے وہ اسی نفرتی فارمولے کے تحت تین دفعہ بھارت کے وزیر اعظم بن چکے ہیں اور چوتھی دفعہ کے لیے تگ و دو کر رہے ہیں۔

بھارتی حزب اختلاف کے کئی رہنما مودی کی کرکٹ میں پہلگام واقعے کی آمیزش کو اس کی سیاسی چال قرار دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ بھارتی عوام مودی کی نفرتی سیاست کو خوب سمجھنے لگے ہیں اور اب وہ مودی کی نفرتی پالیسی کا ساتھ نہیں دیں گے۔

مودی نے میچ کی جیت کو پہلگام واقعے سے جوڑ کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ بھارت کو سندور آپریشن میں ذلت آمیز شکست ہوئی ہے اور انھوں نے کرکٹ کی جیت سے آپریشن سندور کے زخموں کو بھرنے کی کوشش کی ہے مگر ان کی یہ کوشش لاحاصل ہی رہی ہے ، اس لیے کہ پوری دنیا کے میڈیا نے بھارت کو شکست خوردہ بتایا ہے، پھر امریکا جیسے ملک کا صدر بھارت کے چھ طیاروں کے گرنے کی دنیا کو خبر دے رہا ہے۔

خود بھارتی دانشور مودی کے کرکٹ میں سیاست کی آمیزش کو کرکٹ کے کھیل کے لیے خطرناک قرار دے رہے ہیں۔ ان کا سوال ہے کہ آخر مودی بھارت میں ہونے والے کسی الیکشن کے وقت ہی کیوں پاکستان پر حملہ کرتے ہیں یا خود دہشت گردی کرا کے پاکستان کا نام لیتے ہیں؟

یہ اس وقت دراصل ان کی بہار میں ہونے والے انتخابات کی تیاری کی کڑی ہے مگر گزشتہ عام انتخابات میں ان کی ووٹوں کی چوری کانگریس پکڑ چکی ہے اور اس کا مودی یا بی جے پی کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔

بی بی سی ویب سائٹ نے ایشیا کپ کے بارے میں لکھا کہ اس کے میچ تاریخی پستی کی نشان دہی کرتے ہیں کیوں کہ یہ کھیل کم سیاست زدہ زیادہ تھے، اس کھیل نے ماضی میں سفارت کاری کا کردار بھی ادا کیا ہے اور دو روٹھے ہوئے ممالک یعنی پاکستان اور بھارت کو ملانے کا کام بھی کیا ہے مگر اس دفعہ ایشیا کپ نفرتی پراپیگنڈے پر شروع ہوا اور اسی پر ختم ہوا۔ 

کئی بھارتی سابق کرکٹرز نے بھی ایشیا کپ میں بھارتی ٹیم کے ہاتھ نہ ملانے اور ٹرافی وصول نہ کرنے پر سخت تنقید کی ہے، انھوں نے کہا کہ میچ پہلے بھی دونوں ممالک کے درمیان ہوتے رہے ہیں مگر کسی بھارتی ٹیم نے موجودہ ٹیم جیسا شرم ناک رویہ اختیار نہیں کیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایشیا کپ انھوں نے بی جے پی مودی کی دیا گیا رہے ہیں ہے اور کے لیے کر دیا چکی ہے ہے مگر

پڑھیں:

جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔

 آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔

 یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟

 یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟

دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد