Express News:
2026-07-24@03:30:27 GMT

شرمناک رویہ

اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT

ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں بھارت نے کامیابی تو ضرور حاصل کی مگر ٹرافی کو اپنی نفرت اور ضد کی نذر کر دیا۔ کیا کسی ملک کی ٹیم نے خود کو دنیا کے سامنے اتنا ذلیل کیا کہ خود اس کے اپنے عوام نے اس کے رویے پر تنقید کی ہو، مگر بھارتی کرکٹ ٹیم ہندوتوا انتظامیہ کے حکم پر ایسا کرنے پر مجبور ہوگئی۔

سب سے افسوس بھارتی وزیر اعظم کے اس بیان پر ہے جس میں انھوں نے اپنی پارٹی کے نفرتی منشور کی ترجمانی کرتے ہوئے ایکس پر لکھا ’’ میدان میں آپریشن سندور، نتیجہ وہی رہا انڈیا جیت گیا‘‘ مودی کا یہ نفرتی پیغام کھیل کے شایان شان نہیں۔

کھیل میں جیت پر ضرور ٹیم کو مبارک باد دی جاتی ہے مگر اس کا سیاست سے کیا تعلق؟ اپنے ہی ہم وطنوں کو اپنے ہی دہشت گردوں سے درجنوں معصوم سیاحوں کو صرف ہوس اقتدار کی بھینٹ چڑھانا اور یہ بھی نہیں سوچنا کہ کتنے بچے یتیم ہو جائیں گے اور کتنی ہی خواتین بیوہ ہو جائیں گی، یہ درندگی نہیں ہے تو کیا ہے۔ پھر الزام اپنے دشمن پاکستان پر لگانا سراسر چانکیائی حکمت عملی ہے۔

مودی کا پاکستان پر الزام لگانا بہت ہی آسان منافع بخش سیاسی چورن ہے۔ ابھی حال میں لداخ میں آزادی کا نعرہ لگانے والوں کو کچل دیا گیا، اس تحریک کے بانی سونم وانگ چک کو پاکستانی ایجنٹ قرار دے کر جیل میں ڈال دیا گیا۔

اس سے پہلے سکھ حریت پسند رہنما جگتار سنگھ کو سکھوں کی آزادی کا نعرہ لگانے کی پاداش میں کشمیر کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں قید کر دیا گیا جہاں کئی کشمیری حریت پسند رہنماؤں کو سزائے موت دی جا چکی ہے۔

جگتار سنگھ کو بھی پاکستانی ایجنٹ قرار دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے خالصتان تحریک کے تمام رہنماؤں کو پاکستانی ایجنٹ قرار دیا گیا تھا اور کینیڈا میں مقیم ایک سکھ رہنما کو قتل بھی کیا جا چکا ہے۔

یہ کرکٹ کے لیے انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے کہ پہلی دفعہ ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں سیاسی رنگ چھایا رہا، پہلے پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے گریزکیا گیا اور میچ کے اختتام پر ٹرافی وصول کرنے سے انکار کیا گیا کہ وہ کسی پاکستانی کے ہاتھ سے ٹرافی وصول نہیں کریں گے۔

یہ کھیل کا میدان تھا یا بی جے پی کا سیاسی جلسہ؟ اس نفرت کی وجہ یہ ہے کہ بھارتی کرکٹ انتہا پسندوں کے ہتھے چڑھ چکی ہے۔ بی جے پی پورے بھارت میں نفرت کا طوفان بپا کیے ہوئے ہے۔ بھارت میں بی جے پی کے خلاف بولنے والے کا گھر بلڈوزر سے مسمار کر دیا جاتا ہے۔

یہ نفرت کی انتہا ہے اور یہ نفرت ایسی بلا ہے کہ جو ماضی میں کئی ملکوں کو تباہ و برباد کر چکی ہے۔ کیا جرمنی کی مثال ہمارے سامنے نہیں ہے۔ ہٹلر اور اس کی پارٹی کے لوگ خود کو بڑے فخر سے دنیا کی سب سے اعلیٰ نسل کہتے تھے اور یورپ کی دیگر اقوام کو خود سے کم تر سمجھتے تھے، انھیں نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

پھر انھوں نے یہ نعرہ بلند کیا کہ یورپ کی تمام قوموں کو ان کا محکوم ہو جانا چاہیے کیونکہ حکمرانی کا حق صرف انھیں حاصل ہے۔ پھر ان کے غرور اور ظلم کا یہ حشر ہوا کہ ملک ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور ہٹلر کو خودکشی کرنا پڑی۔

دراصل انتہا پسندوں اور ظالموں کا ایسا ہی انجام ہوتا رہا ہے۔ افسوس کہ مودی نے تاریخ سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا، شاید اس لیے کہ وہ زیادہ پڑھا لکھا ہی کہاں ہے اس کی بی اے کی ڈگری ہی نہیں، لگتا ہے میٹرک کا سرٹیفکیٹ جعلی ہے۔

حزب اختلاف کے رہنماؤں نے مودی کی بی اے کی ڈگری کی حقیقت جاننے کے لیے عدالتوں کے دروازے بھی کھٹکھٹائے ہیں مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی، شاید اس لیے کہ وہاں مودی نے اپنی پسند کے ہندوتوا جج بٹھائے ہوئے ہیں جو مودی کے خلاف کیسے فیصلہ دے سکتے ہیں۔

بھارتی حزب اختلاف کے رہنما مودی کے سندور آپریشن کی حقیقت سے واقف ہو چکے ہیں اس کا مقصد ہندوؤں کو پاکستان کے خلاف ورغلا کر سیاسی فائدہ اٹھانا ہے یعنی الیکشن میں کامیابی حاصل کرنا ہے مگر یہ مودی کی ضرورت ہے وہ اسی نفرتی فارمولے کے تحت تین دفعہ بھارت کے وزیر اعظم بن چکے ہیں اور چوتھی دفعہ کے لیے تگ و دو کر رہے ہیں۔

بھارتی حزب اختلاف کے کئی رہنما مودی کی کرکٹ میں پہلگام واقعے کی آمیزش کو اس کی سیاسی چال قرار دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ بھارتی عوام مودی کی نفرتی سیاست کو خوب سمجھنے لگے ہیں اور اب وہ مودی کی نفرتی پالیسی کا ساتھ نہیں دیں گے۔

مودی نے میچ کی جیت کو پہلگام واقعے سے جوڑ کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ بھارت کو سندور آپریشن میں ذلت آمیز شکست ہوئی ہے اور انھوں نے کرکٹ کی جیت سے آپریشن سندور کے زخموں کو بھرنے کی کوشش کی ہے مگر ان کی یہ کوشش لاحاصل ہی رہی ہے ، اس لیے کہ پوری دنیا کے میڈیا نے بھارت کو شکست خوردہ بتایا ہے، پھر امریکا جیسے ملک کا صدر بھارت کے چھ طیاروں کے گرنے کی دنیا کو خبر دے رہا ہے۔

خود بھارتی دانشور مودی کے کرکٹ میں سیاست کی آمیزش کو کرکٹ کے کھیل کے لیے خطرناک قرار دے رہے ہیں۔ ان کا سوال ہے کہ آخر مودی بھارت میں ہونے والے کسی الیکشن کے وقت ہی کیوں پاکستان پر حملہ کرتے ہیں یا خود دہشت گردی کرا کے پاکستان کا نام لیتے ہیں؟

یہ اس وقت دراصل ان کی بہار میں ہونے والے انتخابات کی تیاری کی کڑی ہے مگر گزشتہ عام انتخابات میں ان کی ووٹوں کی چوری کانگریس پکڑ چکی ہے اور اس کا مودی یا بی جے پی کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔

بی بی سی ویب سائٹ نے ایشیا کپ کے بارے میں لکھا کہ اس کے میچ تاریخی پستی کی نشان دہی کرتے ہیں کیوں کہ یہ کھیل کم سیاست زدہ زیادہ تھے، اس کھیل نے ماضی میں سفارت کاری کا کردار بھی ادا کیا ہے اور دو روٹھے ہوئے ممالک یعنی پاکستان اور بھارت کو ملانے کا کام بھی کیا ہے مگر اس دفعہ ایشیا کپ نفرتی پراپیگنڈے پر شروع ہوا اور اسی پر ختم ہوا۔ 

کئی بھارتی سابق کرکٹرز نے بھی ایشیا کپ میں بھارتی ٹیم کے ہاتھ نہ ملانے اور ٹرافی وصول نہ کرنے پر سخت تنقید کی ہے، انھوں نے کہا کہ میچ پہلے بھی دونوں ممالک کے درمیان ہوتے رہے ہیں مگر کسی بھارتی ٹیم نے موجودہ ٹیم جیسا شرم ناک رویہ اختیار نہیں کیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایشیا کپ انھوں نے بی جے پی مودی کی دیا گیا رہے ہیں ہے اور کے لیے کر دیا چکی ہے ہے مگر

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف