اگر دوبارہ کوشش کی تو اسکور 0-6 سے کہیں زیادہ بہتر ہو گا، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارت کے اشتعال انگیز بیانات پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مودی سرکار نے دوبارہ حملے کی کوشش کی تو اسکور 0-6 سے کہیں زیادہ بہتر ہو گا۔
خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بھارتی اعلیٰ سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے بیان پر کہا اس بار بھارت طیاروں کے ملبے تلے دفن ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا مودی سرکار اور انڈین عسکری قیادت معرکہ حق میں کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں، مگر اس کا نتیجہ بھارت کے خلاف پہلے سے کہیں زیادہ خراب ہو گا۔
انہوں نے مزید لکھا کہ معرکہ حق میں بدترین شکست نے بھارتی عوام کی رائے مودی سرکار کے خلاف ایک بہت بڑے محاذ کے روپ میں کھڑی ہو گئی ہے جس کا دباؤ برداشت نہیں ہو رہا اسی لیے وہاں کی لیڈر شپ اب گیدڑ بھبکیاں دے رہی ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر مزید لکھا کہ وطن عزیز پاکستان اللہ کے نام پر بنا ہے اس ریاست کے محافظ اللہ کے سپاہی ہیں، ان شاء اللہ جارحیت کے نتیجے میں بھارت اپنے ہی طیاروں کے ملبے تلے دفن ہو گا، اللہ اکبر۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خواجہ ا صف
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔