حکومت پنجاب کی طرف سے پولیس کے 17 شہدا کے ورثا کو گھروں اور مالی مراعات دینے کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
حکومت پنجاب نے پولیس کے 17 شہدا کے ورثا کو گھروں اور مالی مراعات دینے کی منظوری دے دی۔
یہ فیصلہ صوبائی وزیر قانون ملک صہیب احمد بھرتھ کی زیر صدارت محکمہ داخلہ میں منعقدہ اجلاس میں کیا گیا جس میں پولیس شہدا پیکچ کی مختلف کیٹگریز کا ازسرنو جائزہ لیا گیا اور پیکچ 3 کے رولز میں تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد پولیس کی کارروائی،کروڑوں روپے مالیت کی چوری شدہ گاڑیاں برآمد
وزیر قانون نے کہا کہ پیکچ 3 کے شہدا کو اب دیگر مراعات کے ساتھ گھر بھی فراہم کیا جائے گا۔ اس تبدیلی کی باضابطہ منظوری پنجاب کابینہ سے لی جائے گی۔
اس سے قبل پیکچ 3 میں ورثا کو گھر فراہم نہیں کیا جاتا تھا جبکہ پیکچ 1 اور 2 میں پہلے ہی یہ سہولت موجود ہے۔
اجلاس میں سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی، ایڈیشنل آئی جی عمران احمد، ڈی آئی جی ویلفیئر غازی صلاح الدین، ایڈیشنل سیکرٹری پولیس کنور انوار علی خاں سمیت محکمہ خزانہ اور محکمہ قانون کے افسران نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیے: میرپور: کشمیری پولیس اہلکاروں کا مطالبات کے حق میں احتجاج، چارٹر آف ڈیمانڈ پیش
اجلاس میں 17 پولیس شہدا کے کیسز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، پیکچ 2 کے تحت اے ایس آئی کے ورثا کو 50 لاکھ روپے، گھر اور دیگر مراعات دی جائیں گی جبکہ شہید کانسٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل کے ورثا کو 40 لاکھ روپے، گھر اور دیگر سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
پیکچ 3 کے تحت شہید ہونے والے کانسٹیبل اور ٹریفک وارڈن کے ورثا کو 35 لاکھ روپے کے ساتھ دیگر مراعات ملیں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب پولیس پنجاب حکومت صوبائی محکمہ داخلہ محکمہ داخلہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پنجاب پولیس پنجاب حکومت صوبائی محکمہ داخلہ محکمہ داخلہ کے ورثا کو
پڑھیں:
ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
حکومتِ پنجاب نے ٹریفک نظام کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے شہریوں کے لیے ایک بہترین اور زبردست سہولت والے اقدام کا اعلان کیا ہے۔
حکومتی فیصلے کے مطابق اب صوبے بھر میں گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے والوں کو ہر وقت پلاسٹک یا کاغذی ڈرائیونگ لائسنس اپنے ساتھ رکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ ان کے موبائل فون میں موجود ’ای ڈرائیونگ لائسنس‘ کو قانونی طور پر مکمل قابل قبول قرار دے دیا گیا ہے۔
ڈی ایل آئی ایم ایس کا جدید ڈیجیٹل نظامپنجاب ٹریفک پولیس کے اعلیٰ حکام کے مطابق یہ نیا اور پیپر لیس نظام ’ڈرائیونگ لائسنس انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم (ڈی ایل آئی ایم ایس) کے تحت کام کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں 16 تا 18 سال کے بچوں کے ڈرائیونگ لائسنس کا اجرا شروع
اس اسمارٹ ڈیجیٹل اقدام کا بنیادی مقصد روایتی کاغذی کارروائی اور لائسنس گم ہونے یا گھر بھول جانے کے باعث شہریوں کو چالان کے خوف سے نجات دلانا اور ٹریفک کے پورے نظام کو تیز رفتار اور مؤثر بنانا ہے۔
موبائل فون پر لائسنس دکھائیں اور چالان سے بچیںنئے قوانین کے تحت اب سڑک پر موجود ٹریفک وارڈنز اور اہلکاروں کے لیے موبائل اسکرین پر دکھایا جانے والا ڈیجیٹل لائسنس ہی حتمی اور درست تصور کیا جائے گا۔
پولیس کے اعلیٰ حکام نے سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ٹریفک اہلکار، شخص یا ادارہ اس ڈیجیٹل لائسنس کو تسلیم کرنے سے انکار کرے، تو شہری اس کے خلاف فوری طور پر قانونی شکایت درج کروا سکتے ہیں۔
شکایت کے لیے واٹس ایپ نمبر اور ہیلپ لائن جاریٹریفک پولیس پنجاب نے شہریوں کی سہولت اور کسی بھی قسم کی بدتمیزی یا انکار کی صورت میں فوری ایکشن کے لیے درج ذیل رابطے فراہم کیے ہیں، سرکاری ہیلپ لائن نمبر1787 جبکہ آفیشل واٹس ایپ نمبر 03184642936 ہوگا۔
مزید پڑھیں:دبئی کا ڈرائیونگ لائسنس پاکستان میں نہیں چلے گا، ٹریفک پولیس نے اوورسیز پاکستانی کا چالان کردیا
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تمام متعلقہ اداروں اور اہلکاروں کے لیے ای لائسنس کو قبول کرنا لازمی ہوگا اور اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
ڈاؤن لوڈ کرنے کا طریقہ کارشہری اپنا پورٹیبل ای ڈرائیونگ لائسنس انتہائی آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے انہیں پنجاب حکومت کی آفیشل ویب سائٹ https://dlims.punjab.gov.pk/elicense پر جانا ہوگا، جہاں وہ اپنا شناختی کارڈ نمبر اور دیگر مطلوبہ معلومات درج کر کے اپنا لائسنس دیکھ اور پی ڈی ایف فارمیٹ میں موبائل میں محفوظ کر سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پورٹیبل ٹریفک پولیس پنجاب ڈاؤن لوڈ ڈرائیونگ ڈی ایل آئی ایم ایس شہری لائسنس موبائل فون ہیلپ لائن