آسٹریلیا کیخلاف وائٹ بال سیریز کیلیے بھارتی اسکواڈز اور نئے کپتان کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
بھارت نے رواں ماہ آسٹریلیا کے خلاف وائٹ بال سیریز کے لیے اسکواڈ کا اعلان کردیا۔
بھارتی مڈل آرڈر بلے باز شبمن گل کو روہت شرما کی جگہ بھارتی ون ڈے ٹیم کا نیا کپتان مقرر کردیا گیا ہے جبکہ شریاس ایئر کو نائب کپتان بنایا گیا ہے۔
ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سے ریٹائرمنٹ لینے والے سابق کپتان روہت شرما اور ویرات کوہلی ون ڈے اسکواڈ میں شامل ہیں۔
دونوں کھلاڑی مارچ 2025 میں چیمپئنز ٹرافی کے بعد پہلی مرتبہ بھارت کی نمائندگی کریں گے۔
بھارتی ٹیم آسٹریلیا میں 19 اکتوبر سے 25 اکتوبر تک تین ون ڈے میچز کھیلے گی جس کے بعد پانچ ٹی ٹوئنٹی میچز پر مشتمل سیریز کھیلی جائے گی۔
ون ڈے اسکواڈ:
شبمن گل (کپتان)، روہت شرما، ویرات کوہلی، شریاس ایئر(نائب کپتان)، اکشر پٹیل، کے ایل راہول، نتیش کمار ریڈی، واشنگٹن سندر، کلدیپ یادیو، ہرشیت رانا، محمد سراج، ارشدیپ سنگھ، پراسیدھ کرشنا، دھروو جوریل، یشسوی جیسوال
ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ:
سوریا کمار یادیو (کپتان)، ابھیشیک شرما، شبمن گل (نائب کپتان)، تلک ورما، نتیش کمار ریڈی، شیوم دوبے، اکشر پٹیل، جیتیش شرما، ورون چکراورتھی، جسپریت بمراہ، ارشدیپ سنگھ، کلدیپ یادیو، ہرشیت رانا، سنجو سیمسن، رنکو سنگھ، واشنگٹن سندر
???? India’s squad for Tour of Australia announced
Shubman Gill named #TeamIndia Captain for ODIs
The #AUSvIND bilateral series comprises three ODIs and five T20Is against Australia in October-November pic.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔