معرکہ حق میں عالمی رسوائی کے باوجود انتہا پسند مودی کی شکست خوردہ افواج کا جنگی جنون برقرار
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
معرکہ حق میں عالمی رسوائی کے باوجود انتہا پسند مودی کی شکست خوردہ افواج کا جنگی جنون برقرار ہے جب کہ معرکہ حق میں شکست کے بعد اپنی عوام کو مطمئن کرنے کیلئے بھارتی سیاسی و عسکری قیادت کی گیدڑ بھبکیاں بھی جاری ہیں۔
آپریشن سندور میں منہ کی کھانے کے بعد بھارت عالمی سطح پر شرمندہ اور بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکا ہے، اقتدار پر قابض مودی نے حسب روایت بہار انتخابات سے قبل پاکستان دشمنی کا سہارا لے لیا جب کہ بھارت کی شکست خوردہ عسکری قیادت کے حالیہ بیانات نے خطے کے امن کو دوبارہ داؤ پر لگا دیا۔
بھارتی آرمی چیف نے آپریشن سندور کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اشارہ دے دیا، بھارتی آرمی چیف جنرل اوپندر دویودی نے کہا کہ ؛ اس بار بھارت پوری جنگی تیاری کے ساتھ کارروائی کرے گا، بھارت کی سیاسی و عسکری قیادت کی گیدڑ بھبکیاں دراصل معرکہ حق کی شکست کو چھپانے کی ناکام کوشش ہیں۔
بھارتی قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
پاکستان کی مسلح افواج کا دو ٹوک موقف ہے کہ؛ بھارتی جارحیت کا جواب معرکہ حق سے بھی زیادہ سخت اور تیز ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: معرکہ حق
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :