190 ملین پائونڈ کیس کے فیصلے نے پی ٹی آئی کی منافقت اور دوغلاپن عیاں کردیا،احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2025 GMT
نارووال (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس کے فیصلے سے پاکستان تحریک انصاف کی منافقت اور دوغلا پن کھل کر سامنے آگیا۔ تفصیلات کے مطابق احسن اقبال نے ایک بیان میں کہا کہ یہ نہایت افسوس ناک اور شرم ناک امر ہے کہ پی ٹی آئی کے حامی عمران خان کی واضح کرپشن کا دفاع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان نے اپنی پوری سیاسی مہم کو’’کرپشن کارڈ‘‘کے گرد بنایا، شفافیت اور احتساب کے وعدوں پر لوگوں کو اپنی طرف مائل کیا، تاہم پی ٹی آئی کی دوغلاپن اور منافقت کھل کر سامنے آ گئی ہے، جب وہ اپنے رہنما کے 190 ملین پاؤنڈز (تقریباً 64 ارب روپے) کے اسکینڈل پر آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ احسن اقبال نے کہا کہ عوامی اعتماد کی اس بڑی خلاف ورزی کا سامنا کرنے کے بجائے وہ مذہب یا اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کا سہارا لے کر تنقید سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حقائق واضح اور ناقابل تردید ہیں، جن کے مطابق برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے 190 ملین پائونڈز پاکستان کو واپس کیے جو قومی خزانے میں عوامی فائدے کے لیے جمع ہونے تھے، اس رقم کو قومی خزانے میں جمع کرانے کے بجائے عمران خان نے یہ فنڈز اپنے اتحادی مشہور پراپرٹی ٹائیکون کو فائدہ پہنچانے کے لیے منتقل کیے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بدلے میں بانی پی ٹی آئی ذاتی فوائد حاصل کیے، چاہے ان فوائد کو نظرانداز بھی کر دیا جائے تاہم ریاستی فنڈز کو ذاتی مقاصد کے لیے منتقل کرنا ایک ناقابل معافی جرم ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ یہ اسکینڈل صرف مالی بدعنوانی تک محدود نہیں ہے، بلکہ عوامی اعتماد کے ساتھ ایک سنگین دھوکا بھی ہے، جو رہنما خود کو کرپشن کے خلاف جدوجہد کا علمبردار کہتا تھا، وہ190 ملین پائونڈز کی میگا کرپشن میں ملوث پایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پی ٹی آئی اور اس کے حامیوں کی منافقت کی علامت ہے، جو اس طرح کی حرکتوں کا دفاع کرتے ہیں اور ان اصولوں کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے جن کا وہ دعویٰ کرتے تھے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ صرف قیادت کی ناکامی نہیں، بلکہ اندھی عقیدت، شخصیت پرستی اور بے قابو طاقت کے خطرات کا واضح سبق ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل احسن اقبال نے وفاقی وزیر پی ٹی ا ئی نے کہا کہ
پڑھیں:
ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
ارب پتی ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ ان کا مصنوعی ذہانت پر مبنی پلیٹ فارم گروک امیجن (Grok Imagine) رواں سال کے اختتام سے پہلے قدیم یونانی رزمیہ شاہکار اوڈیسی پر مبنی ایک مکمل فلم تیار کرے گا۔ مسک کا کہنا ہے کہ یہ فلم شاعر ہومر کی اصل تخلیق کے مطابق ہوگی اور تاریخی اعتبار سے بھی زیادہ درست انداز میں پیش کی جائے گی۔
ایلون مسک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ اے آئی کے ذریعے بنائی جانے والی یہ فلم ہومر کے اصل فن اور کہانی کی حقیقی روح کی عکاسی کرے گی۔ انہوں نے اس اعلان کے ساتھ تقریباً تین منٹ طویل ایک اے آئی ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں اوڈیسیئس اور کلیپسو کے درمیان ایک منظر دکھایا گیا ہے۔
Before this year ends, Grok Imagine will make a full-length movie of The Odyssey that is historically accurate and true to the art of Homer https://t.co/bVHzUmY9WN
— Elon Musk (@elonmusk) July 22, 2026اس سے قبل بھی ایلون مسک نے ایک صارف کی اس تجویز کی حمایت کی تھی کہ ہدایت کار میل گبسن تقریباً 100 ملین ڈالر کی لاگت سے اوڈیسی پر ایسی فلم بنائیں جس میں تاریخی طور پر درست جہاز، ہتھیار، زرہیں، کردار اور ہومر کی اصل نظم کے مکالمے شامل ہوں۔ اس تجویز پر مسک نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا تھا، ’میں تیار ہوں۔‘
دوسری جانب ایلون مسک حالیہ دنوں میں برطانوی نژاد امریکی فلم ساز کرسٹوفر نولن کی فلم اوڈیسی پر بھی سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ نولن نے ایوارڈز حاصل کرنے کی غرض سے اصل داستان میں تبدیلیاں کیں۔ انہوں نے فلم کی کاسٹنگ پر بھی اعتراض اٹھایا، خاص طور پر اداکارہ لوپیٹا نیونگو کو ہیلن آف ٹرائے کے کردار میں لینے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ ایک موقع پر نولن کو ’نسل پرستانہ رویہ رکھنے والا‘ فلم ساز بھی قرار دیا۔
تاہم ایلون مسک کی تنقید کے باوجود کرسٹوفر نولن کی اوڈیسی نے باکس آفس پر شاندار آغاز کیا ہے۔ باکس آفس رپورٹس کے مطابق فلم نے ریلیز کے پہلے ہفتے میں دنیا بھر سے 264.06 ملین ڈالر سے زائد کا بزنس کیا، جس کے بعد اسے رواں برس کی نمایاں کامیاب فلموں میں شمار کیا جا رہا ہے۔