WE News:
2026-06-03@08:11:02 GMT

بلوچستان میں دہشتگردی کے سبب سیاحت میں کمی واقع ہوئی؟

اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2025 GMT

بلوچستان میں دہشتگردی کے سبب سیاحت میں کمی واقع ہوئی؟

پاکستان کے شمال مغرب میں واقعہ رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑا صوبہ بلوچستان گزشتہ 2 برس سے شدید دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے۔ محکمہ داخلہ بلوچستان کے اعداد شمار کے مطابق گزشتہ برس شدت پسندی کے 109 واقعات میں 300 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 600کے قریب زخمی ہوئے ۔ رواں برس بھی دہشتگردی کے واقعات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

ناخوشگوار واقعات اور امن وامان کی مخدوش صورتحال کے سبب صوبے میں جہاں معاشی مشکلات بڑھ رہی ہیں وہیں سیا حت میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ محکمہ سیاحت و ثقافت ذرائع کے مطابق بلو چستان میں گزشتہ برس سیاحت کی شرح گزشتہ برسوں کی نسبت 30 فیصد تک کم رہی۔

وی نیوز سے بات کر تے ہوئے کوئٹہ کے مقامی سیا ح اویس خان بتاتے ہیں کہ آج سے چند برس قبل میں اپنی موٹر سائیکل پر اکثر اوقات سولو ٹریولنگ کیا کرتا تھا اپنی اس ٹریولنگ کے دوران میں نے بلوچستان کا ہر علاقہ بہت نزدیک سے دیکھا یہاں بسنے والے لوگ انتہائی مہمان نواز اور خوش اخلاق ہیں لیکن حال ہی میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعے کے سبب اب اندرون بلوچستان گھومنا ایک خواب ہوگیا ہے، اکثر یہ خبریں سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملتی ہیں کہ قومی شاہراہوں پر شرپسند عناصر ناکہ لگا کہ لوگوں کو بربریت کا نشانہ بناتے ہیں جس کی وجہ سے اب روڈ ٹریولنگ کرنے سے ڈر لگتا ہے، اگر حکومت صوبے میں امن و مان کی صورتحال بہتر بنا دے تو صوبے میں اتنا ٹورازم ہو کہ عوام کو سرحدی تجارت کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔

مزید پڑھیں: جنگلی ڈرائی فروٹ جو صرف بلوچستان میں کھایا جاتا ہے

دوسری جانب وی نیوز سے بات کرتے ہوئے زیارت کے مقامی تاجر نجیب خان بتاتے ہیں کہ گزشتہ برس کشیدہ حالات کی وجہ سے زیارت میں سیاحوں کی آمد بہت کم رہی جس کی وجہ سے کاروبار نہ ہونے کے برابر تھا، ماضی میں سیا ح بڑی تعداد میں وادی زیارت کا رخ کر تے تھے جس سے یہاں بسنے والے لوگوں کا گھر چلتا تھا لیکن امن و امان کی صورتحال کے باعث اب ٹورازم کم ہوگیا ہے اور اگر صورتحال یہی رہی تو زیارت کے لوگ نان شبینہ کے محتاج ہو جائیں گے۔

بلوچستان میں کون کون سے سیاحت کے مقامات موجود ہیں؟

بات کی اگر صوبے کے سیاحتی مقامات کی تو سب سے پہلے وادی زیارت کا نام ذہن میں آتا ہے جہاں دنیا کا دوسرا بڑا جونیپر جنگل موجود ہے اس کے علاوہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی آخری رہائشگاہ قائد اعظم ریزیڈنسی کے نام سے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے، اس کے علاوہ پشتون آبادی پر محیط مختلف اضلاع کے سنگلاخ پہاڑ منفرد ثقافت، روایتی پکوان اور مہمان نوازی سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتی تھی بات کریں اگر بلوچ آبادی والے اضلاع کی تو دریائے بولان کے کنارے واقع مختلف پکنک پوائنٹ جن میں پیر غائب سمیت دیگر شامل ہیں بھی لوگوں کے لیے جنت نما نظارے لیے موجود تھی۔

مزید پڑھیں: حکومت بلوچستان کا ہڑتالی ڈاکٹرز کے خلاف کارروائی کا اعلان

ضلع خضدار بھی قدرتی حسن سے کسی سے کم نہ تھا، یہاں واقعہ ملا چٹوک اور چارو مچھی کا شفاف پانی روح کو تازگی دیتا تھا اس کے علاوہ بلوچستان کا ساحل اپنے اندر ایسی جاذبیت رکھتا تھا کہ ہر آنے والے کو اپنے سحر میں جکڑ لیتے تھے لیکن ان خوبصورت نظاروں سے ہر گزرتے سال کے ساتھ لوگ محروم ہوتے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بلوچستان سیاحت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلوچستان سیاحت گزشتہ برس

پڑھیں:

بلوچستان میں ایرانی پیٹرول کی نئی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر

بلوچستان حکومت نے صوبے میں ایرانی پیٹرول(Irani Petrol) کی نئی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر کر دی ہے، جبکہ مقررہ نرخ سے زائد وصولی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی کا اعلان کیا گیا ہے۔

حکومتی اعلامیے کے مطابق صوبے میں ایرانی پیٹرول اب 280 روپے فی لیٹر میں فروخت کیا جائے گا، اور اس سے زیادہ قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ قیمتوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے مانیٹرنگ سخت کر دی گئی ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ شہری اگر کسی بھی مقام پر ایرانی پیٹرول کی زائد قیمت وصولی دیکھیں تو وہ اس کا ثبوت ویڈیو کی صورت میں محفوظ کر کے متعلقہ ڈپٹی کمشنر آفس میں شکایت درج کرا سکتے ہیں۔ حکومت کے مطابق عوامی شکایات پر فوری کارروائی کی جائے گی تاکہ ناجائز منافع خوری اور بلیک مارکیٹنگ کا خاتمہ کیا جا سکے۔

مزیدپڑھیں:ایمریٹس کپتان دنیا کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے پائلٹس میں شامل

دوسری جانب بلوچستان میں مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث شہری پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں۔ ایسے میں نئی قیمت کے تعین کو بعض حلقوں کی جانب سے ایک ریگولیٹری اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

جماعت اسلامی بلوچستان کے جنرل سیکرٹری مرتضیٰ خان کاکڑ نے اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے بھر میں پیٹرول مافیا کے خلاف فوری اور سخت کارروائی ناگزیر ہے، تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے اور قیمتوں میں بے ضابطگی کو روکا جا سکے۔

حکام کے مطابق آئندہ دنوں میں مارکیٹ پر مزید کڑی نظر رکھی جائے گی اور کسی بھی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں ایرانی پیٹرول کی نئی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر
  • کینیڈا کے کثیر القومی کلچر کو بھارتی ڈانس کلچر کی یلغار کا سامنا، سماجی ماہرین نے خبردار کر دیا
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • اٹلی میں پاکستانی اور افغان تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز