راکھی ساونت نے ہانیہ عامر، نرگس اور دیدار کو ڈانس مقابلے کا چیلنج دے کر تہلکہ مچادیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2025 GMT
ممبئی : بالی وڈ کی متنازعہ اور مشہور اداکارہ راکھی ساونت نے حالیہ انٹرویو میں پاکستانی اداکاراؤں ہانیہ عامر، نرگس، اور دیدار کو ڈانس مقابلے کا چیلنج دے کر تہلکہ مچا دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ تینوں کو ایک ساتھ آسانی سے شکست دے سکتی ہیں۔
راکھی ساونت، جنہیں بولی وڈ کی "نمبر ون آئٹم گرل" اور "ریئلٹی ٹی وی کی کوئن" کہا جاتا ہے، اپنے بے باک بیانات اور تنازعات کی وجہ سے خبروں میں رہتی ہیں۔
انٹرویو کے دوران انہوں نے اپنی پاکستان سے محبت کا بھی اظہار کیا، جو ان کے تنقیدی تبصروں کے ساتھ متضاد معلوم ہوا۔
راکھی ساونت نے 2000 کی دہائی کے اوائل میں بالی وڈ میں قدم رکھا اور اپنی بولڈ شخصیت کی وجہ سے جلد ہی شہرت حاصل کی۔ انہوں نے شاہ رخ خان اور سشمیتا سین کے ساتھ فلم "میں ہوں نا" (2004) میں یادگار کردار نبھایا۔
View this post on InstagramA post shared by Murtaza Ali Shah (@murtazaviews)
اداکارہ کی اصل پہچان ریئلٹی شوز سے ہوئی۔ بگ باس سیزن 1 (2006) میں ان کی بے باک اور صاف گو شخصیت نے انہیں عوام میں مقبول بنایا۔ 2020 میں وہ بگ باس سیزن 14 میں واپس آئیں اور فائنل تک پہنچ کر دوبارہ خبروں کی زینت بنیں۔
راکھی ساونت اپنے غیر متوقع اور متنازعہ بیانات کے لیے مشہور ہیں۔ پاکستانی اداکاراؤں پر ان کے حملے نے کئی لوگوں کو حیران کر دیا، خاص طور پر جب اسی انٹرویو میں انہوں نے پاکستان کے لیے محبت کا اظہار کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔
تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع
وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب