معیشت کے حوالے سے اچھی خبریں آرہی ہیں، عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2025 GMT
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ : فوٹو فائل
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ معیشت کے حوالے سے اچھی خبریں آرہی ہیں، سیاسی استحکام کےلیے مذاکرات کر رہے ہیں۔
اسلام آباد میں جنگ گروپ کے زیر اہتمام کرکٹ لیگ کی اختتامی تقریب کے موقع پر عطا اللّٰہ تارڑ نے 8 فروری کو یوم تعمیر و ترقی کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ معیشت کے حوالے سے اچھی خبریں آرہی ہیں، معاشی استحکام آرہا ہے، سیاسی استحکام کیلئے مذاکرات کر رہے ہیں، ہمارے میدانوں کی رونقیں بحال ہورہی ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کہیں بھی چلے جائیں، اُن کے پاس 190 ملین پاؤنڈ کا جواب نہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ چیمپینز ٹرافی کا پاکستان میں ہونا خوش آئند ہے، چیمپینز ٹرافی میں بہترین ٹیمیں پاکستان آرہی ہیں، چیمپینز ٹرافی میں پاکستانی شائقین کو بہترین کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف قومی ٹیم کی کارکردگی شاندار رہی، ہر چیز میں اسپورٹس مین اسپرٹ ہونی چاہیے، محسن نقوی نے چیمپینز ٹرافی کا معاملہ آئی سی سی میں مضبوط طریقے سے لڑا، اسپورٹس مین اسپرٹ دکھا کر تلخیاں ختم ہونی چاہئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: چیمپینز ٹرافی وزیر اطلاعات عطا تارڑ رہی ہیں
پڑھیں:
طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ وسیع، کئی افغان صوبوں میں جھڑپوں کی اطلاعات
افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمتی سرگرمیوں میں تیزی آنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مختلف صوبوں سے موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق طالبان مخالف گروہوں نے شمالی اور شمال مشرقی علاقوں میں متعدد کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے، جس سے بعض علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔
رپورٹس کے مطابق ’فریڈم اینڈ جسٹس موومنٹ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے کمانڈر حامد سیفی کی قیادت میں جنگجوؤں نے 20 جولائی کو صوبہ کاپیسا کے ضلع کوہستان میں مختلف شاہراہوں پر چیک پوسٹیں قائم کیں اور اہم راستوں پر نقل و حرکت کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں پرتشدد واقعات، سابق انٹیلیجنس افسر اور قبائلی عمائدین الگ الگ حملوں میں قتل
ادھر صوبہ بدخشاں کے ضلع یفتل میں حالیہ مزاحمتی کارروائی کے بعد ضلع زیبک سے بھی طالبان مخالف حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق ٹاپ خانہ کے علاقے میں طالبان کی چیک پوسٹوں کے قریب شدید جھڑپیں جاری ہیں، تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کے بارے میں کوئی مصدقہ معلومات سامنے نہیں آئیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق لڑائی قریبی علاقوں تک پھیلنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل ’سپاہیانِ میہن‘ نامی گروپ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے جنگجوؤں نے یفتل میں ضلعی انتظامیہ، پولیس ہیڈکوارٹر اور انٹیلی جنس دفاتر پر قبضہ کرکے طالبان کا پرچم اتار دیا، اسلحہ، فوجی گاڑیاں اور دیگر سامان اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ بعد ازاں طالبان کی اضافی نفری پہنچنے پر علاقے کا دوبارہ کنٹرول طالبان کے ہاتھ میں آنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
تازہ رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ بدخشاں طالبان حکومت کے لیے ایک اہم دباؤ والے علاقے کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں بار بار ہونے والی مزاحمتی کارروائیاں طالبان کی سیکیورٹی حکمت عملی اور صوبے پر گرفت کو چیلنج کر رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق طالبان مخالف سرگرمیاں اب صرف پنج شیر اور اندراب تک محدود نہیں رہیں بلکہ کابل، بغلان، تخار، قندوز، کاپیسا، بلخ، ہرات اور بدخشاں سمیت متعدد صوبوں میں بھی مختلف مزاحمتی گروہوں نے کارروائیوں کے دعوے کیے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلح مزاحمت کا دائرہ بتدریج وسیع ہو رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان بدخشاں طالبان فریڈم اینڈ جسٹس موومنٹ