آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ایرانی فوج کے چیف آف جنرل سٹاف میجر جنرل محمد باقری کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2025 GMT
راولپنڈی ( ڈیلی پاکستان آن لائن )چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر سے ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف میجر جنرل محمد باقری نے ملاقات کی۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف سے ایرانی چیف آف جنرل سٹاف میجر جنرل محمد باقری کی ملاقات جی ایچ کیو راولپنڈی میں ہوئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں علاقائی سلامتی کی صورتحال اور دوطرفہ دفاعی تعاون کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس موقع پر میجر جنرل محمد باقری نے جی ایچ کیو میں یادگارِ شہدا ءپر پھول رکھے، پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے ایرانی فوج کے چیف آف سٹاف کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔
اس لمحے کے بعد امریکہ کی تنزلی کا وقت ختم ہوگیا، ڈونلڈ ٹرمپ کا بطور صدر پہلا خطاب، جنوبی بارڈر پر نیشنل ایمرجنسی کا اعلان
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔