ایک اور آئی پی پی سے معاہدہ ختم ، خرید وفروخت کے نئے نظام سے بجلی سستی ہوگی : وزارتوانائی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) حکومت اور انڈی پنڈنٹ پاور کمپنیوں کی جانب سے تصفیوں کے ساتھ معاہدے ختم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت کے ساتھ ایک اور آئی پی پی نے سیٹلمنٹ ایگریمنٹ کے تحت پاور معاہدہ ختم کردیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق میسرز روش پاکستان پاور لمیٹڈ نے حکومت سے پاور پرچیز معاہدہ ختم کرنے کی اطلاع سے پاکستان سٹاک ایکس چینج کی انتظامیہ کو آگاہ کردیا ہے۔ حکومت اور صدر پاکستان کی فراہم کردہ گارنٹی پر کمپنی نے معاہدہ ختم کیا ہے۔ ادھر وفاقی حکومت نے بجلی کی نئی مارکیٹ متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت بجلی کی خرید و فروخت کا نظام شروع کیا جائے گا۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی پاور کا اجلاس سینیٹر محسن عزیز کی زیر صدارت ہوا۔ سیکرٹری پاور ڈویژن نے کہا کہ حکومت بجلی کی مارکیٹ متعارف کروائے گی۔ اس نظام کے تحت بجلی کی خرید و فروخت کا نظام شروع کیا جائے گا، اس نظام کا اطلاق رواں سال شروع کیا جائے گا۔ سیکرٹری پاور نے کہا کہ اس وقت سارے الیکٹرون سی پی پی اے خریدتا ہے جس کو پھر ڈسکوز کو فروخت کیا جاتا ہے، اس طریقہ کار سے مسائل جنم لیتے ہیں، این ٹی ڈی سی اور سی پی پی اے کو ملا کر آئی ایس ایم او کا ادارہ قائم کیا جائے گا، آئی ایس ایم او کا ادارہ ایک ریگولیٹر کے طور پر کام کرے گا۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ این ٹی ڈی سی کو گزشتہ کئی سالوں سے بغیر مستقل سربراہ کے چلایا گیا ہے، ادارے کو کبھی منصوبہ بندی اور منصوبوں پر عملدرآمد کیلئے اختیار ہی نہیں دیا گیا، اب ہم کیسے یقین کریں کہ آپ کہ اقدامات سے اب بہتری آئے گی۔ سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ واپڈا کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا کیا فائدہ ہوا۔ سیکرٹری پاور نے بتایا کہ میں تو خود اس منسٹری میں نیا آیا ہوں، سیکرٹری پاور نے کہا کہ این ٹی ڈی سی بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر فیاض چوہدری کو لگایا گیا ہے، تمام تنظیم نو این ٹی ڈی سی بورڈ کی مشاورت سے کی جا رہی ہے۔ سیکرٹری پاور نے کہا کہ پاور سیکٹر میں آئندہ تمام منصوبے کم سے کم لاگت میں بنیں گے، اب ہم دس دس سال کی منصوبہ بندی کے ساتھ چل رہے ہیں، کسی بھی منصوبے کی اضافی لاگت بجلی صارفین سے نہیں لی جائے گی، کسی بھی منصوبے کی اضافی لاگت وفاق اور صوبے برداشت کریں گے۔ سیکرٹری پاور نے کہا کہ ہم پورے نظام پر کام کر رہے ہیں، ہم سارے ایشوز کو دیکھ رہے ہیں کہ کیوں لوگ سسٹم سے نکل رہے ہیں، امید ہے کہ اس سال جون تک بجلی ٹیرف میں نمایاں کمی کر دی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ٹی ڈی سی کیا جائے گا معاہدہ ختم بجلی کی رہے ہیں
پڑھیں:
ایک ہفتے کے دوران 22 اشیائے ضروریہ مہنگی، 8 سستی ہوئیں، رپورٹ
اسلام آباد:رواں ہفتے ملک میں مہنگائی میں اضافے کی رفتار میں0.91 فیصد اضافہ ہوگیا ہے جبکہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی میں اضافے کی رفتار 9.66 فیصد رہی، حالیہ ایک ہفتے میں 22 اشیائے ضروریہ مہنگی ہوئیں، 8 اشیاء سستی اور 21 کی قیمتیں مستحکم رہیں۔
وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی کے بارے میں ہفتہ وار رپورٹ جاری کردی، وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق حالیہ ہفتے آلو 3.70اور انڈے 7.31فیصد مہنگے ہوگئے جبکہ ٹماٹر کی قیمت میں 39.92 فیصد، لہسن کی قیمتوں میں0.41 فیصد، سرسوں کے تیل کی قیمتوں میں 0.45 فیصد، چائے کی پتی کی قیمتوں میں 0.59 فیصد، واشنگ سوپ کی قیمتوں میں 0.21فیصد، پٹرول کی قیمت میں5.23 فیصد، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 15.87فیصد اور ایل پی جی کی قیمتوں میں0.91 فیصد اضافہ ہوا۔
ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے میں چینی کی قیمتوں میں 0.09فیصد،کیلوں کی قیمتوں میں 1.72 فیصد جبکہ چکن کی قیمتوں میں 4.66فیصد،ایری سکس چاول کی قیمت میں0.52 فیصد، دال چنے کی قیمتوں میں 0.03فیصد،دال مسور کی قیمتوں میں0.40 فیصد، دال مونگ 1.08 اور دال ماش1.07 فیصد سستی ہوئی۔
اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار087فیصداضافے کے ساتھ 10.23فیصد، 17 ہزار 733روپے سے 22 ہزار 888روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 0.89فیصداضافے کے ساتھ10.76فیصد رہی۔
اسی طرح 22 ہزار 889روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 0.80 فیصداضافے کے ساتھ9.27فیصد، 29 ہزار 518روپے سے 44ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار0.86فیصداضافے کے ساتھ9.23فیصد رہی جبکہ44 ہزار 176روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار0.98 فیصداضافے کے ساتھ 9.11فیصدرہی ہے۔