امریکا میں الیکٹرک گاڑیوں کا ہدف بھی صدر ٹرمپ کے نشانے پر آگیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2025 GMT
وائٹ ہاؤس میں اپنے پہلے دن واپسی پر وعدے کے مطابق ایگزیکٹو آرڈرز کی ہلچل کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت کے لیے وفاقی حمایت سے دستبرداری کا اعلان کردیا۔
کیپیٹل ون ایرینا میں صدر ٹرمپ نے پرجوش ہجوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا خود اپنی صنعتوں کو سبوتاژ نہیں کرے گا خاص طور پر جب چین استثنیٰ کے ساتھ آلودگی کرتا رہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے دن کونسے بڑے فیصلے کیے؟
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیپیٹل ون ایرینا میں ایک تقریب کے دوران گرجتے ہوئے ہجوم کے سامنے ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کیے، ان احکامات میں سے ایک بائیڈن دور کی 78 کارروائیوں کو منسوخ کرنا بھی شامل تھا۔
ان 78 کارروائیوں میں 2021 کا ایگزیکٹو آرڈر بھی شامل ہے جس کا مقصد 2030 میں فروخت ہونے والی تمام نئی گاڑیوں کا نصف الیکٹرک گاڑیوں پر مشتمل ہونا تھا، مذکورہ ہدف کسی لحاظ سے صنعت کو پابند نہیں کرتا تھا تاہم اس نے اعلی آٹومیکرز کی حمایت حاصل کی تھی۔
مزید پڑھیں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے دن کونسے بڑے فیصلے کیے؟
ماحولیاتی غیر منافع بخش مرکز برائے حیاتیاتی تنوع میں محفوظ آب و ہوا کی نقل و حمل مہم کے ڈائریکٹر ڈین بیکر کا کہنا ہے کہ یہ صاف کار رول بیکس امریکیوں پر زیادہ قیمتوں، زیادہ آلودگی اور کمزور مسابقت کے ’ٹرمپفیکٹا‘ کا بوجھ ڈالیں گے۔
’ہمارے بچے اور پھیپھڑوں میں مبتلا ہر شخص ہماری آب و ہوا کے تحفظات کے سیاسی طور پر حوصلہ افزائی کے رول بیکس کی قیمت ادا کرے گا۔‘
مزید پڑھیں: بائیڈن کے تمام ایگزیکٹو آرڈرز کو منسوخ کیا جائے گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا حلف سے قبل خطاب
صدر ٹرمپ کا حکم سابق صدر جو بائیڈن کے ذریعے متعارف کرائے گئے ماحولیاتی تحفظات کو منسوخ کرنے اور پیٹرول سے چلنے والی کاروں کے امریکی مینوفیکچررز کی حمایت کرنے کے وعدے کا حصہ ہے۔
اس صدارتی حکم نامے نے پچھلے موسم بہار میں اس وقت جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ذریعہ طے شدہ گاڑیوں کی آلودگی کے معیارات کو واپس لانے کا بھی وعدہ کیا ہے، ایک اصول جسے ٹرمپ “ای وی مینڈیٹ” کہتے ہیں، حالانکہ اس میں براہ راست الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کی ضرورت نہیں تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹرک گاڑیوں ای وی مینڈیٹ جو بائیڈن ڈونلڈ ٹرمپ صدر ٹرمپ کیپٹل ون ایرینا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الیکٹرک گاڑیوں جو بائیڈن ڈونلڈ ٹرمپ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الیکٹرک گاڑیوں
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔