سکیورٹی فورسز کی کارروائی،دہشتگردی میں ملوث افغان شہری ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2025 GMT
ویب ڈیسک: پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث افغان شہری کو بلوچستان کے ضلع ژوب میں ہلاک کر دیا گیا۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق 11 جنوری کو ہلاک کیے گئے افغان شہری کی شناخت محمد خان احمد خیل کے نام سے ہوئی ہے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ مارا گیا افغان شہری پکتیا صوبہ کے علاقے بلورائی کا رہائشی تھا، افغان شہری کی میت 20 جنوری کو افغان عبوری حکومت کے حوالے کی گئی۔
ایک مقدمہ سننے سے اتنی پریشانی ہو گئی بنچ سے کیس ہی منتقل کر دیا گیا؟ سپریم کورٹ
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز نے کہا کہ ایسے واقعات افغان شہریوں کے پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہونے کے ناقابل تردید ثبوت ہیں، توقع ہے عبوری افغان حکومت اپنی ذمے داریاں پوری کرے گی۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ توقع ہے عبوری افغان حکومت دہشت گردوں کو اپنی سرزمین استعمال نہیں کرنے دے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: افغان شہری
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک