وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں پاکستان میں کام کرنے والے بیرون ملک کے موجودہ 86 پائلٹس کے لائسنز کی توثیق میں 2 سال کی توسیع کی منظوری سمیت اہم فیصلے کیے گئے-

وزیراعظم آفس جاری اعلامیے کے مطابق وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویژن کی سفارش پر پاکستان میں کام کرنے والے بیرون ملک کے موجودہ 86 پائلٹس کے لائسنز کی توثیق میں 2 سال اور 2025 میں نئے پائلٹس کی شمولیت کی فارن ویلیڈیشن میں 3 سال کی توسیع کی منظوری دے دی-

بیان کے مطابق وزیراعظم کو بتایا گیا کہ گزشتہ سالوں میں کووڈ کی وبا اور پاکستانی پائلٹس پر پابندی کی وجہ سے پاکستانی ائیرلائنز کو بیرون ملک سے پائلٹس کی خدمات حاصل کرنی پڑیں،  کابینہ ڈویژن کی مذکورہ بالا سفارش پر مکمل قانونی کارروائی کے بعد عمل درآمد کیا جائے گا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے توشہ خانہ کے نظام میں مزید شفافیت لانے کے لیے توشہ خانہ ایکٹ 2024 پر نظر ثانی کے لیے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی۔

وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویژن کی سفارش پر نیشنل اسییڈ ڈویلپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین اور ممبران کی تعیناتی کے حوالے سے قوائد وضوابط کی منظوری دے دی-

*وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویژن کی سفارش پر پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی ذمہ داری وزارت آئی ٹی سے وزارت داخلہ کو منتقل کئے جانے کے حوالے سے رولز آف بزنس 1973 میں ترمیم کی منظوری دے دی- 

وفاقی کابینہ نے وزارت قانون و انصاف کی سفارش پر نشینل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی اپیلیٹ ٹریبیونل کے ممبر فنانس کے طور پر ڈاکٹر عمار حبیب خان کی تعیناتی کی منظوری دے دی- 

وزیراعظم نے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کی تعمیر نو کے عمل کو تیز کرنے، اس عمل کی مؤثر نگرانی کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی۔

وزیراعظم نے کہا کہ پرائم منسٹر ریلیف پیکج مستحقین تک پہنچانے کے لیے نئی مؤثر حکمت عملی بنائی جائے۔

*وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 6 جنوری 2025 اور 17 جنوری 2025 کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کردی-

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویژن کی کی منظوری دے دی کی سفارش پر کے لیے

پڑھیں:

ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط

پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

متعلقہ مضامین

  • ادویات مہنگی ہونے کا خدشہ، قیمتوں سے متعلق اہم فیصلوں کے لیے حکومتی مشاورت جاری
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش