کراچی: اورنگی ٹاؤن میں نامعلوم ملزمان نے ٹیلر ماسٹر کو قتل کردیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2025 GMT
کراچی:
اورنگی ٹاؤن میں نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے ٹیلر ماسٹر جاں بحق ہوگیا۔
پولیس کے مطابق مومن آباد تھانے کے علاقےاورنگی ٹاؤن مومن آباد بلاک اے محمد حسین اسکول کے قریب موٹرسائیکل سوارنامعلوم مسلح ملزمان نے فائرنگ کرکے ایک شخص کوقتل کردیا اورفرارہوگئے، واقعے کی اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اورلاش کو تحویل میں لینے کے بعد قانونی کارروائی کے لیےعباسی شہید اسپتال منتقل کیا، مقتول کی شناخت 40 سالہ محمد صدیق ولد میرحاتم کے نام سے کی گئی۔
ایس ایچ اومومن آباد غلام نبی کے مطابق مقتول محمد صدیق مومن آباد کا رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے ٹیلرماسٹرتھا، مقتول کی مومن آباد ٹیلر گلی میں ٹیلر کی دکان تھی، ابتدائی تفتیش کے دوران فائرنگ کا واقعہ جائیداد کا تنازع معلوم ہوتا ہے، مقتول کا اپنے بھائیوں سے عدالت میں جائیداد کا تنازع چل رہا تھا، مقتول کی والدہ کی مدعیت میں 2 مقدمات بھی تھانے میں درج ہیں جبکہ سال 2022 میں مقتول کا بھانجا فدا حسین بھی جائیداد کے تنازع میں مارا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ مقتول کو جسم پردو گولیاں لگی ہیں جو جان لیوا ثابت ہوئیں، پولیس کوجائے وقوعہ سے تیس بورپستول کے 2 خول ملے ہیں جنہیں پولیس نے اپنے تحویل میں لے لیا، واقعے کی مختلف پہلوؤں پر تفتیش جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
کراچی:ملیر 15 کے علاقے میں سندھ رینجرز اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران مبینہ مقابلے میں تین ملزمان ہلاک جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔
چھیپا حکام کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مبینہ بھتہ خوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہا جس کے بعد تین ملزمان مارے گئے جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار ہوا۔
فائرنگ ختم ہونے کے بعد ہلاک اور زخمی ملزمان کو ریسکیو کی ایمبولینسوں کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزمان کی شناخت شاہ رخ، راحب اور علی حمزہ کے ناموں سے ہوئی ہے جبکہ زخمی حالت میں گرفتار ملزم کی شناخت محمد وسیم کے نام سے کی گئی ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق ہلاک اور گرفتار ملزمان بھتہ خوری سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی مزید تفتیش کر رہے ہیں اور ملزمان کے ممکنہ ساتھیوں کی تلاش بھی جاری ہے۔