امریکا پاکستان کا انتہائی اہم معاشی اور دفاعی شراکت دار ہے، محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2025 GMT
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 جنوری2025ء)وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے واشنگٹن میں امریکی کانگریس کے اراکین سے ملاقات کی۔وزیرداخلہ محسن نقوی کی کانگریس مین تھامس رچرڈ سوازی اورکانگریس مین جیک برگمین سے ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، پاک امریکا تعلقات سمیت دیگر اہم معاملات پرتبادلہ خیال کیا۔ کانگریس مین تھامس رچرڈ سوازی کا تعلق ڈیموکریٹک جبکہ کانگریس مین جیک برگمین کا تعلق ری پبلکن پارٹی سے ہے۔
ملاقات میں افغانستان کی صورتحال پر بھی بات چیت کی گئی اورپاک امریکا تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کانگریس مین تھامس سوازی اور کانگریس مین جیک برگمین کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی۔ اس موقع پر وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ امریکا پاکستان کا انتہائی اہم معاشی و دفاعی شراکت دار ہے۔(جاری ہے)
پاکستان کے سماجی شعبوں کی بہتری کیلئے امریکی تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے اور امریکا کے ساتھ تمام شعبوں میں مزید اشتراک چاہتے ہیں۔ آپ کے دورہ پاکستان سے باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔کانگریس مین تھامس سوازی نے کہا کہ پاکستان کیساتھ تعلقات مزید مضبوط بنانے کیلئے پر عزم ہیں۔ جلد پاکستان کا دورہ کروں گا۔ ملاقات میں 30 اپریل کو پاکستانی کاکس کانفرنس واشنگٹن ڈی سی میں منعقد کرانے کا فیصلہ کیا۔ امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ بھی اس موقع پر موجود تھے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کانگریس مین تھامس محسن نقوی
پڑھیں:
آسٹریلیا نے جوہری آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب ڈالر مختص کردیے، آکس معاہدے پر عملدرآمد تیز کرنے کا اعلان
آسٹریلیا نے امریکا اور برطانیہ کے ساتھ ہونے والے آکس دفاعی معاہدے کے تحت جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب امریکی ڈالر (4.6 ارب آسٹریلوی ڈالر) مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا آسٹریلیا کو جوہری آبدوز کے بجائے استعمال شدہ ورجینیا آبدوزیں دے گا
آسٹریلیا کے وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے جمعہ کو بتایا کہ یہ رقم جنوبی آسٹریلیا کے شہر اوسبورن میں قائم شپ یارڈ پر خرچ کی جائے گی تاکہ ملک کی مستقبل کی جوہری آبدوزوں کی تیاری، دیکھ بھال اور آپریشن کے لیے مقامی صلاحیت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آکس معاہدہ درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور اس پر عملی طور پر کام جاری ہے۔
وزیر دفاع کے مطابق یہ سرمایہ کاری آسٹریلیا کو اپنی مستقبل کی آبدوزوں کی تیاری، آپریشن، مرمت اور دیکھ بھال کے لیے خودمختار دفاعی صلاحیت حاصل کرنے میں مدد دے گی۔
آکس معاہدہ کیا ہے؟آکس معاہدہ 2021 میں آسٹریلیا، امریکا اور برطانیہ کے درمیان طے پایا تھا جس کا مقصد بحرالکاہل کے خطے میں دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
مزید پڑھیے: سری لنکا میں تاریخی ڈیجیٹل ڈکیتی، وزارت خزانہ آسٹریلیا کو لوٹانے والی رقم سے محروم
اس معاہدے کے تحت امریکا آسٹریلیا کو تین جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزیں فراہم کرے گا جبکہ بعد ازاں آسٹریلیا اور برطانیہ مل کر سنہ 2040 کی دہائی میں نئی نسل کی جوہری آبدوزیں تیار کریں گے۔
منصوبے پر خدشات بھی برقراراگرچہ آسٹریلیا اس منصوبے کو اپنی دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیتا ہے تاہم اس پر مسلسل سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور برطانیہ میں آبدوزوں کی سست رفتار پیداوار کے باعث خدشہ ہے کہ آسٹریلیا کو مطلوبہ وقت پر یہ آبدوزیں دستیاب نہیں ہو سکیں گی۔
اخراجات میں مزید اضافہآکس معاہدہ آسٹریلیا کی تاریخ کا سب سے مہنگا دفاعی منصوبہ تصور کیا جا رہا ہے جس پر آئندہ 30 برسوں میں تقریباً 250 ارب امریکی ڈالر خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔
ابتدائی منصوبے کے مطابق آسٹریلیا کو امریکا سے 2 استعمال شدہ اور ایک نئی جوہری آبدوز ملنی تھی تاہم مئی 2026 میں اس منصوبے میں تبدیلی کرتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ تینوں آبدوزیں امریکی بحریہ میں پہلے سے زیر استعمال جہازوں میں سے فراہم کی جائیں گی۔
مزید پڑھیں: پاکستانی طلبا آسٹریلیا کی اسکالرشپ کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
آسٹریلوی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نیا انتظام پہلے کے مقابلے میں زیادہ کم لاگت اور عملی ثابت ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آسٹریلیا کا جوہری آبدوزوں کا منصوبہ آکس معاہدہ آسٹریلیا امریکا برطانیہ