بھارت میں ٹک ٹاک سے پابندی نہیں ہٹائی تو پاکستان چلی جاؤں گی: راکھی ساونت کی مودی کو دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2025 GMT
بھارت(نیوز ڈیسک)بھارتی اداکارہ راکھی ساونت نے بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کوپاکستان جانےکی دھمکی دے دی۔راکھی ساونت نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو جاری کی جس میں وہ سوٹ کیس لیے ائیرپورٹ پر موجود ہیں۔ویڈیو میں راکھی ساونت نے دھمکی دی کہ وزیر اعظم مودی جی اگر بھارت میں ٹک ٹاک سے پابندی نہیں ہٹائی گئی تو میں پاکستان چلی جاؤں گی۔پاکستان جا کرشادی کرلوں گی، وہاں حلوہ پوری کھاؤں گی۔راکھی ساونت نے کہا کہ پوری دنیا ٹک ٹاک سے پیسہ کما رہی ہے، بھارت میں لوگ بے روزگار بیٹھے ہیں۔
مودی جی آپ بھی ٹرمپ کی طرح ٹک ٹاک سے پابندی ہٹائیں۔ویڈیو میں راکھی ساونت نے پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر، دیدار اور نرگس سے ملاقات کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔واضح رہے کہ 2020 میں مودی حکومت نے ڈیٹا سکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر ٹک ٹاک سمیت 58 دیگر چینی ملکیتی ایپس پر پابندی عائد کر دی تھی۔اس سے قبل راکھی ساونت نے پاکستان کی معروف اداکاراؤں کو ڈانس کا چیلنج دیا تھا۔وائرل ویڈیو میں راکھی ساونت کی جانب سے کہا گیا کہ پاکستان سے ہانیہ عامر، دیدار اور نرگس کو لے آؤ میں سب کو ہرا دوں گی۔
اس کے ساتھ ہی اداکارہ نے چیلنج کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ میں سب کو شکست دے دوں گی کیونکہ میں بالی وڈ کی آئٹم گرل ہوں اور میں رئیلیٹی شو کی ملکہ ہوں، چاہے کوئی ڈانس ہو یا کوئی رئیلیٹی شو سب میں ہرا دوں گی۔راکھی ساونت کا دیا گیا ایک انٹرویو بھی سوشل میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے جس میں انہوں نے نہ صرف پاکستانی لڑکوں کی طرف دلچسپی ظاہر کی بلکہ سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم کے لیے بھی پسندیدگی کا اظہار کیا۔انہوں نے دوسری شادی کی بات کرتے ہوئے کہا کہ میری خواہش ہے اس بار میں دبئی میں کسی پاکستانی لڑکے سے شادی کروں۔
ٹی وی ٹاک شو میں ن لیگ اور پی ٹی آئی رہنماؤں کا جھگڑا، گتھم گھتا ہوگئے
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: راکھی ساونت نے ٹک ٹاک سے
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔