پاراچنار کے حق میں دھرنا دینے پر سید علی رضوی سمیت کئی علماء کیخلاف کراچی میں مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2025 GMT
درج مقدمات میں سید علی رضوی سمیت دیگر علماء کیخلاف نفرت انگیز تقریر کرنے، کار سرکار میں مداخلت، اقدام قتل، پولیس اہلکاروں کو زخمی کرنے، سرکاری گاڑیوں کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاراچنار کے حق میں کراچی میں دھرنا دینے پر ایم ڈبلیو ایم گلگت بلتستان کے صدر سید علی رضوی کیخلاف کراچی میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق 24 دسمبر 2024ء کو پاراچنار کے راستے کی بندش اور دہشت گردی کے واقعات کے خلاف کراچی نمائش چورنگی پر دھرنے میں شریک کئی دیگر علماء سمیت مجلس وحدت المسلمین گلگت بلتستان کے صدر آغا علی رضوی پر بھی تھانہ سولجر بازار میں پولیس کی جانب سے دہشت گردی ایکٹ سمیت کئی دیگر دفعات کے تحت دو مختلف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ درج مقدمات میں سید علی رضوی سمیت دیگر علماءکیخلاف نفرت انگیز تقریر کرنے، کار سرکار میں مداخلت، اقدام قتل، پولیس اہلکاروں کو زخمی کرنے، سرکاری گاڑیوں کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ آغا علی رضوی کے ساتھ دیگر نامزد علماء میں علامہ صادق جعفری ، علامہ حسن ظفر نقوی، علامہ علی مبشر زیدی اور علامہ مختار امامی شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سید علی رضوی
پڑھیں:
فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
فیفا کی جانب سے امریکی فارورڈ فولارین بالوگن کی ایک میچ کی خودکار معطلی کا اقدام واپس لیے جانے کے فیصلے پر تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ناروے فٹبال فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر فیفا کی ایتھکس کمیٹی میں باضابطہ شکایت دائر کرنے پر غور کر رہی ہے۔
بالوگن کو بوسنیا ہرزیگووینا کے خلاف میچ میں اسٹریٹ ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا جس کے باعث انہیں بیلجیئم کے خلاف پری کوارٹر فائنل سے باہر ہونا تھا۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد فیفا نے ان کی ایک میچ کی پابندی 12 ماہ کے لیے معطل کر دی جس کے نتیجے میں وہ بیلجیئم کے خلاف میدان میں اترے مگر امریکا کو 1-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ناروے فٹبال فیڈریشن کی صدر لیزے کلاوینیس کے مطابق اس معاملے کو فیفا کی جانب سے ٹرمپ کو دیے گئے ’پیس پرائز‘ سے متعلق پہلے سے دائر شکایت کے ساتھ شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔
دوسری جانب بیلجیئم فٹبال فیڈریشن اور یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا نے بھی فیفا کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ فیفا نے بیلجیئم کی وضاحت طلب کرنے کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا۔