اوورسیز پاکستانیوں سے ایک بار پھر مطالبہ کرتا ہوں کہ ترسیلات زر کا بائیکاٹ جاری رکھیں
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2025 GMT
راولپنڈی ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 25 جنوری 2025ء ) عمران خان کا کہنا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں سے ایک بار پھر مطالبہ کرتا ہوں کہ ترسیلات زر کا بائیکاٹ جاری رکھیں،اس حکومت نے سوائے جمہوری اقدار کی پامالی کے کچھ نہیں کیا، ان کو ترسیلات زر بھیجنا ان کے ہاتھ مضبوط کرنے کے مترادف ہے جو آپ کی ہی گردن دبوچ رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق بانی تحریک انصاف عمران خان نے ہفتے کے روز اڈیالہ جیل میں وکلاء اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اردلی حکومت جوڈیشل کمیشن کے قیام سے مسلسل اس لیے بھاگ رہی ہے کیونکہ یہ جانتے ہیں کہ نو مئی کا واقعہ خود اسٹیبلشمنٹ نے کروایا تھا، اسٹیبلشمنٹ نے خود آگ لگا کر سی سی ٹی وی فوٹیج غائب کی۔
میرا عدالت سے اغواء کیا ہی اس لیے گیا تھا کیونکہ ان کو ردعمل کا اندازہ تھا اور عوام کے جذبات سے کھیل کر انہوں نے اپنا مقصد پورا کرنا تھا۔(جاری ہے)
ایک پرامن احتجاج کو اپنے بندے شامل کروا کے فالس فلیگ میں تبدیل کر دیا گیا۔ نو مئی کی آڑ میں ہماری لیڈر شپ اور کارکنان سمیت ہزاروں لوگوں کو اغواء کیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اغواء برائے بیان کی روایت ڈال کر لوگوں سے زبردستی تحریک انصاف چھڑوائی گئی۔
ہمارے 16 افراد شہید اور 4 افراد کو معذور کر دیا گیا۔ سب ظلم ہمارے ساتھ کر کے ہم پر ہی مقدمات بنا دئیے گئے۔نو مئی کا سارا ڈرامہ تحریک انصاف کو کچلنے کے لیے رچایا گیا تاکہ لوگ ڈر کر تحریک انصاف کو چھوڑ جائیں۔ نو مئی کے بیانیے کا دھڑن تختہ تو 8 فروری کے انتخابات میں ہو گیا تھا جب تمام تر پابندیوں کے باوجود تحریک انصاف نے کلین سویپ کیا۔ انتخابات ملتوی کرنے کی وجہ بھی یہی تھی کہ جھوٹا پروپگینڈا کر کے عوام کو تحریک انصاف سے بد ظن کیا جائے مگر یہ اس میں ناکام رہے۔ 26 نومبر بھی اسی مقصد کے تحت کیا گیا تاکہ نہتے پرامن مظاہرین کو گولیاں مار کر خوف و ہراس پیدا کیا جاسکے اور عوام کو ان کی آواز بلند کرنے سے روکا جا سکے۔ 26 نومبر کو ہماری کال ملک میں جمہوری اقدار کی بحالی کے لیے تھی مگر اس پر سیدھے فائر کھول کر عوامی خون سے اس حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے اپنے ہاتھ رنگ لیے۔ 26 نومبر تحریک انصاف کو کچلنے کی دوسری کوشش تھی۔ کٹھ پتلی حکومت نے جمہوریت پر کاری ضربیں لگا کر عوام سے بنیادی انسانی حقوق مکمل طور پر چھین لیے ہیں۔ پیکا ترمیمی ایکٹ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ پہلے آزاد میڈیا کا گلا گھونٹا گیا، ارشد شریف کا قتل کیا گیا، صحافیوں کو اغواء کیا گیا انکو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور سوشل میڈیا پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ اب فارم 47 اسمبلی نے آزادی اظہارِ رائے پر قدغن کے لیے کالا قانون منظور کر لیا ہے۔ سیاسی اختلافات کو دبانے کے لیے پیکا قوانین میں ترامیم کی گئی ہیں۔ اس کی جتنی مذمت کی جائے اتنی کم ہے۔ آزاد عدلیہ، قانون کی حکمرانی اور آزادی اظہار رائے کے بغیر جمہوریت پنپ نہیں سکتی۔ اس جعلی اسمبلی نے سوائے جمہوریت پر حملے کے قوانین منظور کرنے کے کچھ نہیں کیا پھر چاہے وہ 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری ہو یا پیکا ترمیمی ایکٹ۔ 26ویں آئینی ترمیم کا مقصد چیف آف آرمی سٹاف کی ایکسٹینشن تھا اور ان کو یہ خوف تھا کہ عدلیہ آزاد ہوئی تو الیکشن فراڈ سامنے آ جائے گا۔ اپنے ذاتی فوائد کے لیے عدلیہ کی خودمختاری کو سلب کر دیا گیا ہے۔ آٹھ فروری کو ملک بھر میں یوم سیاہ منانے کی تیاری کی جائے۔ اس دن عوامی مینڈیٹ چھین کر 1971 کی یاد تازہ کی گئی۔ صوابی میں خیبرپختونخوا اور شمالی پنجاب کے لوگ اکٹھے ہو کر احتجاج کریں۔ دیگر علاقوں کے افراد اپنے اپنے شہروں میں احتجاجی مظاہرے کریں۔ پوری دنیا میں اوورسیز پاکستانی بھی اس دن اپنی آواز بلند کریں۔ اوورسیز پاکستانیوں سے ایک بار پھر مطالبہ کرتا ہوں کہ ترسیلات زر کا بائیکاٹ جاری رکھیں۔ اس حکومت نے سوائے جمہوری اقدار کی پامالی کے کچھ نہیں کیا ان کو ترسیلات زر بھیجنا ان کے ہاتھ مضبوط کرنے کے مترادف ہے جو آپ کی ہی گردن دبوچ رہے ہیں۔ ہم جمہوریت کی بحالی کے لیے پاکستان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں سے رابطہ کریں گے۔ اپنی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ دیگر جماعتوں سے اس مقصد کے تحت روابط کو تیز کریں تاکہ جلد از جلد عوام کو جمہوریت کی آڑ میں نافذ اس ڈکٹیٹر شپ سے نجات مل سکے۔ علی امین گنڈاپور پر بطور وزیراعلٰی گورننس کا بہت دباؤ ہے لہذا ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جنید اکبر خان جو ہمارے دیرینہ ساتھی اور کارکن ہیں ان کو تحریک انصاف خیبرپختونخوا کا صدر منتخب کر دیا جائے اور تنظیمی امور انکے حوالے کر دئیے جائیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے تحریک انصاف کرتا ہوں کہ ترسیلات زر کیا گیا کر دیا کے لیے
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :